مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 142

مجالس عرفان — Page 14

۱۴ نبی کا منہ نہیں دیکھے گی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ سلم کے دوسرے قول کا اسی طرح پر معنی بنے گا کہ اے علی تجھے پر ولایت ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔یہ ہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو استعمالات - دُنیائے عرب کے نزدیک خاتم کے معنے اب سننے دنیائے عرب نے ان الفاظ کا کن معنوں میں استعمال کیا ہے۔مثال کے طور پر پہلی دوسری اور تیسری صدیوں کے عربوں کو دیکھیں کہ انہوں نے ہر نیکی پر فضیلت کے لئے لفظ ختم استعمال کیا اور ایک جگہ بھی وہ معنی نہیں بیٹھتا تو آج نہیں بنایا جارہا ہے کہ یہ درست معنی ہے۔مثلاً متنبی کو خاتم الشعراء کہا گیا۔مثلاً بوعلی سینا کو خاتم الاطباء کہا گیا۔اسی طرح خاتم الفضلاء بھی آگئے۔خاتم الحماء بھی آگئے۔حکیم اجمل خان تیک کو بھی خاتم الاطباء قرار دیا گیا اور آج تک ان کے نسخوں (بیاض) پر یہی لکھا ہوا ہے۔تو سوال یہ ہے کہ اگر لفظ خاتم میں زمانی لحاظ سے آخریت کا معنی پایا جاتا ہے تو ان سب استعمالات کا مطلب یہ ہوگا کہ امت محمدیہ میں آنحضور کے اوپر نبوت ان معنوں میں ختم ہو گئی کہ کوئی نبی نہیں آئے گا تو حضرت علی پر بھی لایت ختم ہوگئی۔اب اُمت میں کوئی دلی نہیں آئے گا۔متنبی پر شاعری ختم ہو گئی۔بو علی سینا پر طبابت ختم ہو گئی۔اور اسی طرح استعمالات ہیں جو ہم نے حوالے کے ساتھ درج کئے ہیں اور ان تمام استعمالات میں ایک جگہ بھی کوئی عالم زمانی لحاظ سے آخری کا ترجمہ کو نہیں سکتا کیونکہ اگر کرے گا تو اس کے بعد ہمیشہ کے لئے وہ چیز ختم ہو جاتی ہے۔یہ تو ہے میری اس ترجمہ پر تنقید۔اب مینے ہم کیا ترجمہ کرتے ہیں اور اس کی کیا سند ہے۔