مجالس عرفان — Page 112
١١٢ تمہاری رگ جان سے بھی قریب ہوں۔حضرت عیسی کی رگ جان کے اندر طبی خدا تھا اور وہاں موجود تھا۔توپھر حرکت کیوں کی ؟ اگر اس جگہ کو چھوڑ کر کسی طرف گئے تو ثابت ہوا کہ وہاں خدا نہیں تھا جہاں سے چلے اور وہاں خدا تھا جہاں پہنچے۔تو خدا کی ہستی ہاتھ سے جاتی ہے۔عیسی کو آسمان پر چڑھائیں بے تک پھر وہاں اللہ نہیں رہے گا۔کیونکہ جس خدا کی سمت معین ہو جائے وہ خدا نہیں رہتا۔یاد رکھیں سمت ہمیشہ محدود آدمی کی ہوتی ہے۔یعنی ایک طرف ہو اور دوسری طرف نہ ہو۔اس لئے لا محدود کی طرف محدود کی جسمانی حرکت ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ وہ ہر جگہ ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔انَ مَا تُوَلُّوا فَلَو وَجهُ الله وہ تو ہر طرف ہے کوئی سمت اس سے خالی نہیں۔تمہاری رگِ جان سے قریب ہے۔تو خدا نے تو محاورہ ایسا پیارا استعمال فرمایا کہ حضرت عیسی کے جسم کی حرکت کی گنجائش ہی کوئی نہیں۔اس لئے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا۔اگر یہ لکھا ہوتا کہ آسمان پر چلا گیا تو جیسا کہ پہلے صحیفوں میں بھی لکھا ہوا تھا اور اس کا یہ ترجمہ درست نکلا کہ روحانی معنی مراد ہیں۔لیکن یہاں تو یہ بھی نہیں لکھا ہوا کہ آسمان پر چلا گیا۔اس لئے کوئی دھو کے کی وجہ نہیں ہے۔حضرت عیسی عام نبیوں کی طرح فوت ہو چکے ہیں۔قرآن کریم ان کی وفات کی واضح خبر دیتا ہے۔ایک سے زیادہ آیات میں ان کی وفات کی خبر ہے اور ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو جائیں اور کسی اور نبی کو خدا نے آسمان پر بٹھایا ہو۔اور وہ بھی امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے۔آپ کسی طرح اس عقیدے کو مان رہی ہیں یعنی جس رسول کے متعلق خدا قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَرَسُولاً إلى بني إسرائيل - یہ صرف بنی اسرائیل کا رسول ہے۔