مجالس عرفان — Page 111
کے معنی جب آپ بگاڑیں گی تو وہ تمسخر بن جائے گا اور بول اُٹھے گا وہ ترجمہ کہ میں جھوٹا ہوں۔میں اس اصول پر اور کلام الہی پر سجتا نہیں۔اس لئے جھوٹا ہوں۔تو ہم کوئی صدا نہیں کرتے ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو سمجھنے کے لئے اللہ کے کلام کی مدد لیجیے۔قرآن کریم میں جہاں جہاں خدا نے بندے کا کہ فع کیا ہے ان آیات پر غور کرلیں تو یہ جھگڑے والی آیت فور اصل ہو جائے گی۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں جہاں خدا کو کہ فع کرنے والا اور بندے کو مرفوع قرار دیا، وہاں حدیثیں اُٹھا کر دیکھ لیجیے اس ترجمے کے سوا آپ کے پاس چارہ ہی کوئی نہیں رہے گا۔پس ہم یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ وہاں قرب الہی مراد ہے۔اس سے زیادہ کوئی معنی نہیں۔بَلْ فَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے صبح کا آسمان پر اٹھایا جانا ثابت نہیں ہوتا اس آیت کا اگلا حصہ کلام کو خود اتنا واضح کر دیتا ہے کہ اتنے لیے حوالوں کی بھی دراصل ضرورت نہیں رہتی۔اللہ تعالی فرماتا ہے بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيهِ خدا نے حضرت عیلی کو آسمان پر نہیں اٹھایا اپنی طرف اٹھایا۔تو اب خدا کی طرف خدا کی سمت طے کئے بغیر عینی کیسے اُٹھ جائیں گے ؟ جب کہا جائے کوئی کسی طرف گیا تو جائے سمت معین کرنے سے پہلے کہنے والے کی طرف تو معین کرنی ضروری ہے۔ورنہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ حرکت ہو سکے۔میری طرف میری یہ بھانجی آئے تو جب تک میری طرف نہ معلوم ہو بیچاری کدھر جائے گی۔اندھیرے میں میں اس کو آوازہ دوں کانوں میں سمت تو سمجھ نہ آئے کہ کدھر سے آرہی ہے تو شکریں مارتی پھرے گی ، پتہ نہیں لگے گا کہ کدھر جانا ہے تو جسم کی حرکت کیلئے سمرت معین ہونا ضروری ہے۔تو اللہ کی سمت کون سی تھی جدھر حضرت عیسی گئے وہ تو ہر جگہ موجود ہے۔وہ تو فرماتا ہے میں