محضرنامہ — Page 33
افسوس که بعینہ یہی صورت ہمارے مخالف علمائے کرام پیش کر رہے ہیں اور انہیں اس منطق کا بود این نظر نہیں آرہا۔وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے بیان کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر کم وبیش چھ صد سال کی تھی جب سید کونین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔۶۳ سال کی عمر میں حضرت عیسی کی زندگی میں ہی آپ کا وصال ہوا اور اس کے بعد اب تک چودہ سو سال مزید ہونے کو آئے کہ عیسی نبی اللہ زندہ سلامت موجود ہیں۔بتائیے کہ جب وہ نازل ہو کر اپنا مشن پورا کرنے کے بعد بالآخر فوت ہوں گے تو ایک غیر جانبدار موترخ زمانی لحاظ سے کیس کو آخری قرار دے گا۔جب علماء ظاہر کے نزدیک آیت خاتم النبیین زمانی اعتبار سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو آخری ہونے کا حق نہیں دیتی تو پھر زمانی اعتبار سے ہی علماء ظاہر کو حضرت عیسی علیہ السلام کو آخری نبی قرار دینے کا کیا حق ہے ؟ صرف منہ سے اس حقیقت کا انکار کوئی معنے نہیں رکھتا جب کہ وہ عملاً حضرت عیسی علیہ اسلام کو اس دنیا میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینکڑوں سال بعد آنے والا سب سے آخری نبی تسلیم کرتے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے خاتمیت محمدیہ کے بارے میں جو جامع اور دلکش تصور پیشیں فرمایا ہے وہ بالکل لیگانہ اور بے نظیر ہے۔آپ نے قرآن پاک کی روشنی میں آیت خاتم النبیین کی تفسیر مختلف پیرایوں میں اپنی کتب میں ایسے انداز میں بیان فرمائی ہے کہ اس کا ہر حصہ دعوت ایمان و عرفان دے رہا ہے گویا کہہ رہا ہے 5 دامنم می کشد که بجا اینجا است آپ نے کس قدر شاندار اور کتنی موثر اصطلاح بیان فرمائی کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے ہماری کتاب قرآن مجید ایک زندہ کتاب ہے اور ہمارا رسول حضرت خاتم النبیین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ رسُول ہے۔امت محمدیہ میں یہ اصطلاح پہلی مرتبہ آپ نے جاری فرمائی اور عشاق محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح طور پر خاتمیت محمدیہ سے متعارف کروایا۔