محضرنامہ — Page 32
۳۲ نہی نہیں آسکتا۔بات در اصل یہ ہے کہ کیا ہم اور کیا ہمارے غیر تمام قائلین حدیث ، فرمودات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی روشنی میں یہ عقیدہ رکھنے پر مجبور ہیں کہ عیسی نبی اللہ ہم اس امت میں نزول کریں گے۔ہم قرآن و حدیث کی واضح تعلیم کے مطابق چونکہ یہلم بھی رکھتے ہیںکہ عیسی ابن مریم ناصری فوت ہو چکے ہیں اس لئے مذکورہ بالا فرمودات کا یہ مفہوم لیتے ہیں کہ آنے والا " عیسی کبھی اللہ امت محمدیہ ہی میں آپ کے غلاموں میں سے پیدا ہو گا اور قرآن و حدیث اور اقوال بزرگان ہی سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ آنے والا موعود نبی اللہ بھی ہوگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بھی ہوگا اور یہ عقیدہ خاتمیت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز منافی نہیں۔لیکن دیگر علماء اس تاویل سے اپنے دل کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر پرانا ہی دوبارہ آجائے تو بوجہ اس کے کہ وہ پہلے پیدا ہوا تھا اور اسے پہلے نبوت عطا ہوئی تھی وہ آخری قرار نہیں دیا جا سکتا لہذا ایسے نبی کی آمد کا راستہ مُہر نبوت کو توڑے بغیر کھلا رہتا ہے۔اس استدلال کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ پہلے پیدا ہونے والا نبی آخری نبی قرار نہیں دیا جا سکتا۔جب ہم اس استدلال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بھی انتہائی بودا اور لغو نظر آتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آج اگر کسی بیس سالہ نوجوان کے سامنے کوئی بچہ پیدا ہو اور دیکھتے دیکھتے چند دن میں فوت ہو جائے پھر وہ نوجوان اسی سال بعد سنو سال کی عمر میں وفات پائے تو مورخ رکس کو آخری لکھے گا یعنی ہر صاحب فہم اور ذی ہوش و حواس مورخ کیس کو آخری قرار دے گا ؟ اس بچے کو جو بعد میں پیدا ہوا مگر چند دن کی زندگی پا کر فوت ہو گیا یا اس پہلے پیدا ہونے والے انسان کو جو اس بچے کی وفات کے اسی سال بعد سنتو سال عمر پا کر فوت ہوا ؟ مسلم جلد ۲ باب ذکر الدجال