محضرنامہ

by Other Authors

Page 14 of 195

محضرنامہ — Page 14

اله رَسُولُ اللہ کے اقرار کے اور دیگر چار ارکان اسلام یعنی نماز، زکوۃ ، روزہ اور بچ پر ایمان لانے کے با وجود کسی کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو ؟ س :- اگر اس بات کی اجازت ہے کہ پانچ ارکان اسلام پر ایمان لانے کے با وجو د کسی کو قرآن کریم کی بعض آیات کی ایسی تشریح کرنے کی وجہ سے جو بعض دیگر فرقوں کے علماء کو قابل قبول نہ ہو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے۔یا ایسا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے جو بعض دیگر فرقوں کے نزدیک اسلام کے منافی ہے تو ایسی تشریحات اور عقائد کی تعین بھی ضروری ہوگی تا کہ مسلمان کی مثبت تعریف میں یہ شق داخل کر دی جائے کہ پانچ ارکان اسلام کے با وجود اگر کسی فرقہ کے عقائد میں یہ یہ امور داخل ہوں تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔ص :- پنج ارکان اسلام پر ایمان کے باوجود اگر مسلمان فرقوں کی تکفیر کا کوئی ایسا دروازہ کھول دیا جائے جس کا ذکر شق ”ر“ میں ہے تو ایسے تمام امور پر نظر کرنا عقلا اور انصافا ضروری ہے جن پر بناء کرتے ہوئے مختلف علماء نے اپنے فرقہ کے علاوہ دیگر فرقوں کو قطعاً کافر، مرتد یا دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔مثال کے طور پر چند امور درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔و : قرآن کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کا عقیدہ۔(اشاعرہ - حنابلہ ) ب : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترنہیں بلکہ نور یقین کرنا۔(بریلوی) ج : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نور نہیں بلکہ کبشر یقین کرنا۔(اہلحدیث ) د : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ ایمان رکھنا کہ حاضر ناظر بھی ہیں اور عالم الغیب بھی۔(بریلوی) : یہ ایمان رکھنا کہ فوت شدہ بزرگان سے امداد طلب کرنا جائز ہے اور بہت سے وفات یافتہ اولیاء یہ طاقت رکھتے ہیں کہ عند الطلب کسی کی مراد پوری کر سکتے ہیں۔(بریلوی) த் و :- یہ عقیدہ رکھنا کہ قرآن کے سوا شریعت میں کوئی اور چیز معتبر نہیں لہذا ہم سنت رسول اور احادیش رسول کی پیروی کے پابند نہیں خواہ کیسے ہی تو اتر اور قومی روایات سے هم تک پہنچی