محضرنامہ — Page 15
18 ہوں۔(چکڑالوی۔پرویزی ) ز : یہ عقیدہ رکھنا کہ قرآن کے تیس پاروں میں درج سورتوں کے علاوہ بھی کچھ سورتیں ایسی نازل ہوئی تھیں جن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ذکر پایا جاتا تھا لیکن وہ سورتیں ضائع کر دی گئیں لہذا جو قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا وہ مکمل صورت میں ہم تک نہیں پہنچا۔(غالی شیعه) یہ عقیدہ رکھنا کہ جماعت خانوں میں پنجوقتہ نماز کی بجائے کیسی بزرگ کی تصویر سامنے رکھ کر مینا جات کرنا جائز ہے اور خدا سے مخاطب ہونے کی بجائے اس بزرگ کی تصویر سے مخاطب ہو کر دعا کرنی جائز ہے اور یہی دعا نماز کے قائم مقام ہے۔(اسمعیلی فرقہ) ط :- یہ عقیدہ رکھنا کہ پنج تن پاک اور چھ دیگر صحابہ کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ بشمولیت خلفائے راشدین ثلاثہ حضرت ابو بکر ، حضرت عمر، حضرت عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب اسلام سے برگشتہ ہو چکے تھے اور عیاذ باللہ منافق کا درجہ رکھتے تھے۔نیز یہ عقیدہ کہ پہلے تین خلفاء نعوذ باللہ غاصب تھے اس لئے ان پر تبرا کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔(شیعہ ) ی۔کیسی بزرگ کے متعلق یہ عقیدہ رکھا کہ خدا اس میں عارضی یا مستقل طور پر حلول فرما چکا ہے۔حلولی فرقه ) مندرجہ بالا تنقیحات پر غور کرنا اس لئے ضروری ہے کہ قطعی اور ٹھوس شواہد سے یہ ثابت ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے متعلق مختلف مسلمان فرقوں کے علماء اور مجتہدین قطعی فتوی صادر فرما چکے ہیں کہ ایسے عقائد کے حامل خواہ دیگر ضروریات دین پر ایمان بھی رکھتے ہوں یقیناً دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور اُن کے گھرمیں شک کرنے والا بھی بلاست بر خارج از اسلام قرار دیا جائے گا۔اس ضمن من بعض فتاوای ضمیمہ نمبر ہ میں ملاحظہ فرمائیے۔مندرجہ بالا امور کی روشنی میں ہم پر زور اپیل کرتے ہیں کہ اگر حقیقتا عقل اور انصاف کے تقاضوں کو