محضرنامہ

by Other Authors

Page 13 of 195

محضرنامہ — Page 13

مسلمان کی تعریف اور جماعت احمد کا موقف دنیا بھر میں یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی نوع معین کرنے سے قبل اس نوع کی جامع ومانع تعریف کر دی جاتی ہے جو ایک کسوٹی کا کام دیتی ہے اور جب تک وہ تعریف قائم رہے اس بات کا فیصلہ آسان ہو جاتا ہے کہ کوئی فرد یا گر وہ اس نوع میں داخل شمار کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔اس لحاظ سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اس مسئلے پر مزید غور سے قبل مسلمان کی ایک جامع ومانع متفق علیہ تعریف کی جائے جس پر نہ صرف مسلمانوں کے تمام فرقے متفق ہوں بلکہ ہر زمانے کے مسلمانوں کا اس تعریف پر اتفاق ہو۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل تنقیحات پر غور کرنا ضروری ہوگا :- :- کیا کتاب اللہ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمان کی کوئی تعریف ثابت ہے جس کا اطلاق خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بلا استثناء کیا گیا ہو ؟ اگر ہے تو وہ تعریف کیا ہے ؟ ب :۔کیا اس تعریف کو چھوڑ کر جو کتاب اللہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو اور خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں اس کا اطلاق ثابت ہو کسی زمانہ میں بھی کوئی اور تعریف کرنا کسی کے لئے جائز قرار دیا جا سکتا ہے ؟ ج : مذکورہ بالا تعریف کے علاوہ مختلف زمانوں میں مختلف علماء یا فرقوں کی طرف سے اگر مسلمان کی کچھ دوسری تعریفات کی گئی ہیں تو وہ کون کونسی ہیں ؟ اور اول الذکر شق میں بیان کر وہ تعریف کے مقابل پر انکی کیا شرعی حیثیت ہوگی ؟ :- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں فتنہ ارتداد کے وقت کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ یا آپ کے صحابہ نے یہ ضرورت محسوس فرمائی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رائج شدہ تعریف میں کوئی ترمیم کریں ؟ د کیا زمانہ نبوتی یا زمانہ خلافت راشدہ میں کوئی ایسی مثال نظر آتی ہے کہ کلمہ لا الهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدُ