محضرنامہ — Page 48
کا ملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو وہ سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہوسکتا وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے۔پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے۔اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سرا پا دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سرا پا دیکھنے سے قاصر ہیں۔پھر فرمایا کہ وہ عالم الشہادۃ ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پر وہ میں نہیں ہے۔یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر معلم اشیاء سے غافل ہو۔وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت بر پا کر دے گا اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہو گا۔سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔پھر فرمایا هُوَ الرَّحْمنُ یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کے پاداش میں اُن کے لئے سامان راحت میستر کرتا ہے جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے اور اس کام کے لحاظ سے خدا تعالے رحمن کہلاتا ہے اور پھر فرمایا کہ الرحیم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے او کیسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے اور یہ صفت رحمیت کے نام سے موسوم ہے۔اور پھر فرمایا ملك يوم الدين یعنی وہ خدا ہر ایک کی جزاء اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اس کا کوئی ایسا کارپرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔وہی کار پر داز سب کچھ جزا اعزا دیتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔اور پھر فرمایا الملكُ الْقُدُّوسُ یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی واریخ عیب نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں۔اگر مثلاً تمام