محضرنامہ — Page 49
۴۹ رعیت جلا وطن ہو کر دوسرے ملک کی طرف بھاگ جاوے تو پھر بادشاہی قائم نہیں رہ سکتی۔یا اگر مثلاً تمام رعیت قحط زدہ ہو جائے تو پھر خوارج شاہی کہاں سے آئے۔اور اگر رعیت کے لوگ اس سے بحث شروع کر دیں کہ تجھ میں ہم سے زیادہ کیا ہے تو وہ کونسی لیاقت اپنی ثابت کرے۔پس خدا تعالیٰ کی بادشاہی ایسی نہیں ہے۔وہ ایک دم میں تمام ملک کو فنا کر کے اور مخلوقات پیدا کر سکتا ہے۔اگر وہ ایسا خالق اور قادر نہ ہوتا تو پھر بجر ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی کیونکہ وہ دنیا کو ایک مرتبہ معافی اور نجات دے کر پھر دوسری دنیا کہاں سے لاتا۔کیا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجنے کے لئے پھر پڑتا اور ظلم کی راہ سے اپنی معافی اور نجات دہی کو واپس لیتا تو اس صورت میں اس کی خدائی میں فرق آتا اور دنیا کے بادشاہوں کی طرح داغدار بادشاہ ہوتا جو دُنیا کے لئے قانون بناتے ہیں۔بات بات پر بگڑتے ہیں اور اپنی خود غرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو ظلم کو شیر مادر سمجھ لیتے ہیں۔مثلاً قانون شاہی جائز رکھتا ہے کہ ایک جہاز کو بچانے کے لئے ایک کشتی کے سواروں کو تباہی میں ڈال دیا جائے اور ہلاک کیا جائے مگر خدا کو یہ اضطرار بیشیں نہیں آنا چاہیے۔پس اگر خدا پورا قادر اور عدم سے پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو وہ یا تو کمزور راجوں کی طرح قدرت کی جگہ ظلم سے کام لیتا اور یا عادل بن کر خدائی کو ہی الوداع کہتا۔بلکہ خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ بچے انصاف پر چل رہا ہے پھر فرمایا السلام یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور تختیوں سے محفوظ ہے بلکہ سلامتی دینے والا ہے۔اس کے معنے بھی ظاہر ہیں کیونکہ اگر وہ آپ ہی مصیبتوں میں پڑتا۔لوگوں کے ہاتھ سے مارا جاتا اور اپنے ارادوں میں ناکام رہتا تو اس کے بد نمونے کو دیکھ کر کس طرح دل تستی پکڑتے کہ ایسا خدا ہمیں ضرور مصیبتوں سے چھڑا دے گا۔چنانچہ اللہ تعالی باطل معبودوں کے بارہ میں فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعْفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ