محضرنامہ — Page v
در حقیقت یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ ہے جس کے ساتھ سیاست کو مذہب میں اور مذہب کوسیاست میں دخل دینے کا اختیار دے دیا گیا۔یہی وہ نگین غلطی ہے جس کا خمیازہ پاکستان کی سیاست آج بھگت رہی ہے اور آج تک اس ٹھوکر سے سنبھل نہیں سکی۔اس کے بعد سلسل ملک کی سیاست میں انتہاء پسند علماء کا رسوخ بڑھتا رہا اور در حقیقت یہی وہ غلطی ہے جو بالآخر اس بد نصیب مارشل لاء پر منتج ہوئی جس کا گیارہ سالہ دور دوسرے مارشل لاء سے عبیدیوں گنا زیادہ منحوس ثابت ہوا اور جس کی نحوست کا سایہ آج بھی کراچی سے لے کر پشا ور تک قوم کے نصیب گھتائے ہوئے ہے اور دن بدن ملک نظم و ضبط، اتحاد، رواداری اور قومی کمیٹی سے محروم ہوتا چلا جارہا ہے۔خود غرض سیاست نے مذہب میں وضل دے کر جو افتراق کا بیج بویا تھا وہ کئی طرح کی نفرتوں کی فصلیں لیکر چھوٹنے لگا اور پاکستان طبقوں، فرقوں ، گروہوں اور مصوبوں میں بٹنے لگا۔آج بنصیبی سے ملک کا جو حال ہے اس بارے میں اہلِ دانش سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ در اصل اس کی داغ بیل ۱۹۷۴ ء ہی میں ڈال دی گئی تھی۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قوم کو روشنی عطاکر سے اور اس ملک کے متعلق قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے جو خواب دیکھا تھا اور جس کا تصور آپ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں ایک عظیم چارٹر کے طور پر قوم کو عطا کیا تھا، ملک اسی خواب کی تعبیر بن جائے اور اس عظیم چارٹر کو اپنا ہے۔آپ نے فرمایا :- " تم آزاد ہو۔اس مملکت پاکستان میں تم اپنے مندروں ، اپنی مسجدوں اور دوسری عبادت گاہوں میں جانے میں پوری طرح آزاد ہو۔تمہارا مذہب ، تمہاری ذات اور تمہارا عقیدہ کچھ بھی ہوائ کا اس بنیادی اصول سے کوئی تعلق نہیں کہ ہم سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں اور برابر کے شہری ہیں میں سمجھتا ہوں کہ آج ہمیں اسی نصب العیض کو پیش نظر رکھنا چاہئیے پھر تم دیکھو گے کہ وقتے گزرنے کے ساتھ