محضرنامہ

by Other Authors

Page iv of 195

محضرنامہ — Page iv

بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محضر نامہ وہ اہم تاریخی دستاویز ہے جو جماعت احمدیہ نے ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے سامنے اپنے مسلمان ہونے، اپنے بنیادی عقائد کی وضاحت اور جماعت پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی تردید کے لئے پیش کی تھی اور یہ بات شروع میں ہی واضح کر دی گئی تھی کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک دنیا کی کسی اسمبلی یا عدالت کو کسی شخص یا جماعت کے مذہب کی تعین کا قطعا کوئی اختیار نہیں کیونکہ اس کا اختیار صرف خدا تعالیٰ کو ہے جو دلوں کے بھید سے واقف ہے۔اسی طرح درد بھر سے الفاظ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا تھا کہ یہ سمبلی احمدیوں کو غیرمسلم قرار دے کر امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اتحاد میں رخنہ ڈالنے کا موجب نہ بنے کیونکہ اس سے ایک ایسی غلط اور خوفناک مثال قائم ہوگی جو آئندہ دوسرے فرقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔اس افسوس ناک واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ ایک سوچی بھی سکیم کے مانخت بعض سیاسی اغراض کے تابع جن کی تفصیل میں جانے کی گنجائش نہیں۔اُس وقت کی حکومت نے احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر منتشر و علماء کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔اور چونکہ حزب اختلاف میں پہلے ہی بہت سے متشد د علماء کا نفوذ تھا اس لئے حزب اختلاف نے بھی پوری قوت کے ساتھ حکومت وقت کا اِس معاملہ میں ساتھ دیا۔یہاں تک کہ بالآخر جب یہ معاملہ سوچے سمجھے سیاسی منصوبہ کے تحت اپنے منطقی انجام کو پہنچا تو حزب اختلاف اور حزب اقتدار میں با ہم اس امر پر کھینچا تانی شروع ہو گئی کہ اس مبینہ تو سے سالہ مسئلہ کو حل کرنے کا سہرا کس کے سر ہے۔