محضرنامہ

by Other Authors

Page vi of 195

محضرنامہ — Page vi

نہ ہندو ہندو ر ہیں گے نہ مسلمان مسلمان رہیں گے۔نہ سہی معنوں میں نہیں کیونکہ وہ تو ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی رنگ میں ہم سب ایک ہی مملکت کے شہری ہوں گے۔“ (خطاب ار اگست ۶۱۹۴۷) جو محضر نامہ جماعت احمدیہ کو پیش کرنے کی توفیق ملی تھی وہ مین ویگن ایک اہم تاریخی دستاویز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔اس محضر نامہ کے پیش کرنے کے بعد گیارہ روز تک پاکستان کی قومی اسمبلی میں ملک کے اٹارنی جنرل اور مختلف علماء کی طرف سے جماعت احمدیہ پر بشدت تنقید کی گئی اور اس وقت کے امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے پیش کردہ تمام اعتراضات کا ٹھوس ، مدیل اور اطمینان بخش جواب دیا۔یہ تمام کاروائی حکومت کی طرف سے با قاعدہ ریکارڈ کی گئی لیکن افسوس نا معلوم وجوہات کی بناء پر حکومت نے اس کا رروائی کو مخفی رکھا ہوا ہے اور با وجود اس کے کہ ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے کئی حکومتیں گزرگئیں لیکن آج تک یہ کارروائی منظر عام پر نہیں آئی۔خدا وہ دن جلد لائے کہ کسی حکومت کو اس اہم کارروائی کو من وعن شائع کرنے کی جرات اور توفیق ملے تاکہ ساری قوم اس حقیقت کو جان لے کہ جماعت احمدیہ کا موقف در حقیقت حق پر مبنی تھا۔مز تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے جماعت احمدیہ کے سربراہ حضرت مرزا ناصراحمد خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا پابند کیا کہ نیشنل اسمبلی کی مذکورہ بالا کمیٹی کے سامنے خود پیش ہو کر اپنے موقف کی وضاحت کریں اور ہر قسم کے سوالات جو موقع پر ان سے کئے جائیں اُن کے جوابات دیں۔اس سلسلہ میں ان کے مددگار کے طور پر یہ اجازت دی گئی کہ وہ اپنے ساتھ چار دیگر نمائندگان انتخاب کرلیں۔گویا جماعت احمدیہ کے وفد کی کل تعداد پانچ افراد مقرر ہوئی۔1 - موجودہ امام حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۲ - مکرم و محترم جناب مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری (مرحوم)