محضرنامہ — Page 169
ت ر الوند والی اقلیتی فرقہ تسلیم کیاجائے فرقه کو چند علماء کی مجلس شوری کے وضع شدہ اسلامی حکومت کے بنیادی اصول نظر سے گذرے جس کی دفعہ ؟ میں اسلامی فرقوں کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ان کی تفصیل ندارد۔بظاہر اس نظر اندازی کی وجہ دور برطانیہ کے پیدائشی اقلیتی فرقہ تخلیقی و سیاسی اغراض کی تکمیل اور اس کو پاکستان کے اکثریتی فرقہ میں مدغم دکھا کر اس کے ہاتھوں اکثریت کے عقائد پائمال کرا نا معلوم ہوتی ہے اس لئے ہم گھلے الفاظ میں حکومت پاکستان پر یہ واضح کر دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ خدام اولیاء اللہ یعنی المتنقت و الجماعت فرقہ پاکستان کی اکثریت ہے۔جو مذہب اور مسلک آج اس کا ہے وہی عہد شہاب الدین غوری سے تا شاہ عالم بادشاہ دہلی مملکت اسلامیہ غیر منقسیم ہند کا مذہب و مسلک رہا ہے۔پاکستان کے اس مسلم اکثریت کے عقائد ہیں :۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب اور آداب تعین کے ساتھ ایصالِ ثواب معینہ تاریخوں پر نذرونیا زیبزرگان اسلام کے مقررہ تاریخوں میں اعراس، محافل میلاد اور اس میں قیام کے ساتھ صلوۃ و سلام وغیرہ وغیرہ داخل ہیں۔لیکن دور برطانیہ کا پیدائشی اقلیتی فرقہ اکثریت کے مذکورہ بالا معتقدات کو شرک اور بدعت قرار دیتا ہے اور سمجھتا ہے اور ابتداء جو پابندیاں ابن مسعود کی جانب سے معتقدات قدیمہ کی بجا آوری پر عائد تھیں ویسی پابندیاں اکثریت کے عقائد بالا کی بجا آوری پر یہ اقلیتی فرقہ بھارت اور پاکستان میں عائد کرنا جائز سمجھتا ہے۔اس اقلیتی فرقہ کی تخلیق ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہد حکومت میں ہوئی اور اس کے بانی مولوی اسمعیل صاحب دہلوی ہیں جنہوں نے انگریزوں پر جہاد نا جائز قرار دیا مگر انگریزوں کے ایماء سے سیکھوں پر