محضرنامہ — Page 170
16۔جہاد فرمایا اور امکان کذب اور امکان نظیر نعوذ باللہ خدا کے جھوٹ بولنے اور رسول کے مثل پیدا ہونے کے خود تراشیدہ عقائد وضع فرمائے۔شمار میں ملکہ وکٹوریہ کے سامنے ہندوستان کو عیسائی بنانے کی جو اسکیم پیشیں کی گئی تھی اس کی ایک دفعہ یہ ہے :۔ہندوستان کے بت پرستوں یعنی غیر عیسائیوں کو ان کے سیاسی اور مذہبی میلوں میں جمع نہ ہونے دو اس اسکیم کے بعد مولوی اسمعیل صاحب کے معظمہ مشن میں نئی روح داخل ہوئی اور ان کے وضع کردہ عقائد اور حد و دو خطوط پر قصبہ دیوبند میں ان کے قائم کر وہ فرقہ کی تشکیل جدید عمل میں آئی۔بدیں وجہ" آب وہ دیوبندی فرقہ کے نام سے موسوم ہیں مگر یہ فرقہ تعداد میں کم ہے اس لئے خود کو اہلسنت والجماعت میں داخل کہتا ہے حالانکہ اس کے عقائد اہلسنت و الجماعت سے قطعی جدا ہیں یعنی جس طرح سکھ ہندوؤں سے نکلے مگر ہندو نہیں ہیں یا انگلینڈ کے پروٹسٹنٹ رومن کیتھولک سے نکلے مگر روؤمن نہیں اسی طرح دیوبندی فرقہ اہلسنت والجماعت سے نکلا مگر اہم سنت و الجماعت نہیں۔اقلیتی فرقہ دیوبندیہ کے نمائندگان خصوصی مفتی حمد شفیع صاحب، مولاناسید سلیمان ندوی صاحب، مولوی احتشام الحق صاحب، مسٹر ابو الاعلیٰ مودودی و غیر هم می مگر اکثریت کے عقائد اور اس کے حقوق کی نظر اندازی اصول جمہوریت کی تو ہین کے مترادف ہے اس لئے اکثریت کی جانب سے حسب ذیل مطالبات پیش کئے جاتے ہیں :- جمہوریہ پاکستان کے امیر کے مسلمان ہونے کی دفعہ میں اس کا اکثریت کا ہم عقیدہ ہونالازمی شرط قرار دیا جائے۔- اہلسنت والجماعت سے دیوبندی فرقہ کوعلیحدہ فرقہ تسلیم کیا جائے۔-۳- دیوبندی فرقہ کی المسنت والجماعت کے معتقدات اور اوقات میں مداخلت قانوناً ممنوع قرار دیا جائے۔ران مطالبات کا مقصد پاکستان میں فرقہ بندی کو ہوا دینا نہیں بلکہ ان کا مقصد پاکستان سے ہمیشہ کے لئے