محضرنامہ

by Other Authors

Page 168 of 195

محضرنامہ — Page 168

IYA ختم نبوت کے مقدس نام پر اس ارضِ پاک میں جوتحریک چلائی جا رہی ہے اس کا پس منظرمندرجہ بالا تحریر سے خوب واضح ہو جاتا ہے چنانچہ جناب ابو الاعلیٰ صاحب مودودی نے ۱۹۵۳ء کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک خصوصی بیان میں یہ حیرت انگیز اعتراف کیا :۔اس کا رروائی سے دو باتیں میرے سامنے بالکل عیاں ہوگئیں۔ایک یہ کہ احرار کے سامنے اصل سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں ہے بلکہ نام اور سرے کا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے جان و مال کو اپنی اغراض کے لئے جھوٹے کے داؤ پر لگا دینا چاہتے ہیں، دوسرے یہ کہ رات کو بالاتفاق ایک قرار داد طے کرنے کے بعد چند آدمیوں نے الگ بیٹھ کر ساز باز کی ہے اور ایک دوسرا ریز و لیوشن بطور خو دلکھ لائے ہیں۔بیس نے محسوس کیا کہ جو کام اس نیت اور طریقوں سے کیا جائے اُس میں کبھی خیر نہیں ہو سکتی اور اپنی اغراض کے لئے خدا اور رسول کے نام سے کھیلنے والے جو مسلمانوں کے سروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کریں اللہ کی تائید سے کبھی سرفراز نہیں ہو سکتے۔۔۔۔الخزری (روزنامہ تسنیم لاہور ۲ جولائی ۹۵ ) اس پس منظر میں اگر پاکستان کے گذشتہ دور اور موجودہ پیدا شدہ صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ اگر چہ موجودہ مرحلہ پر صرف جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر زور ڈالا جا رہا ہے مگر دشمنان پاکستان کی دیرینہ سکیم کے تحت امت مسلمہ کے دوسرے فرقوں کے خلاف بھی فتنوں کا ایک وسیع راستہ یقیناً کھل چکا ہے اور سواء کے بعد سے ہی احمدیوں کے علاوہ بعض دوسرے فرقوں کو بھی غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آوازیں بلند ہونی شروع ہو چکی ہیں۔چنانچہ شروع مارچ سالہ میں کراچی کے در و دیوار پر ایک اشتہار بعنوان " مطالبات چسپاں تھا جو بجنسہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے :-