محضرنامہ — Page 149
۱۴۹ نمازیں پڑھتے تھے اُس میں بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حکما روکے گئے۔۔۔۔نیز بہت قسم کی ذلتیں اُٹھائیں معاملہ اور برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا۔عورتیں منکوحہ اور مخطو بہ بوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں۔مردے اُن کے بے تجہیز وتکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے " (ص ) آب معر نزارکان اسمبلی غور فرما سکتے ہیں کہ اگر سالہا سال تک تکالیف و مصائب کا نشانہ بننے کے بعد جماعت احمدیہ کے افراد کو ابتداء اور فتنہ کے احتمال سےکوئی قدم اُٹھانا پڑا تو یہ ان کی قابلِ رحم اور دردناک حالت پر تو دلالت کرتا ہے ان کے تغیر مسلم ہونے کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ہے :۔اس مسئلہ کے دوسرے پہلو بھی ہیں جن کی تفصیل مطبوعہ رسالہ میں درج ہے جو ذیل میں بجنس نقل کیا جاتا احمدی مسلمان غیر احدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے پاکستان میں آجکل اکثر علماء کا دلچسپ ترین مشغلہ یہ ہے کہ جیسے تیسے جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا جائے۔اس ضمن میں بکثرت ایسا لٹریچر شائع کیا جارہا ہے جو دلائل سے کہیں زیادہ اشتعال انگیز بے بنیاد ۱۹۵۲-۵۳ء الزامات اور دشنام طرازی پرشتمل ہے اور تمام تر انہیں باتوں کا اعادہ ہے جو ۱۹۵۲ میں سادہ کوح عوام میں شدید اشتعال انگیزی کی خاطر نشر کی گئیں۔ڈاکٹر غلام جیلانی برقی اس نوع کے لٹریچر کا ذکر اپنی کتاب حرف محرمانہ " میں حسب ذیل الفاظ میں کرتے ہیں :۔" آج تک احمدیت پر جس قدر لٹریچر علمائے اسلام نے پیش کیا ہے اس میں دلائل کم تھے اور گالیاں زیادہ۔ایسے دشنام آلود لٹریچر کو کون پڑھے اور مغلظات کون سنے " ( حرف محرمانه (ص) ۱۹۵ء میں جب اِن مغلظات اور گالیوں نے عوام الناس کے مزاج کو بھڑک اٹھنے پر تیار کر دیا تو