محضرنامہ — Page 148
IMA قاضی عبید اللہ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا کہ ان کو " مقابر اہل اسلام میں دفن نہیں کرنا بلکہ بغیر غسل و کفن کے گتے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا " افتوی شاء منقول از فتوی در تنکیر منکر عروج جیمی و نزول عیسی علیہ السلام ) راسی طرح انہوں نے یہ بھی فتوے دیئے کہ کسی مسلمان کے لئے احمدیوں کو لڑکیاں دینا جائز نہیں چنانچہ شرعی فیصلہ میں لکھا گیا کہ جو شخص ثابت ہو کہ واقع ہی وہ قادیانی کامریدہ ہے اس سے رشتہ مناکحت کا رکھنا نا جائز ہے" بلکہ اس سے بڑھ کر یہ فتویٰ دیا گیا کہ (شرعی فیصلہ صا۳) " جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہوں وہ بھی کا فر ہیں اور اُن کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کرے “ افتوی مولوی عبد الله و مولوی عبد العزیز صاحبان لدھیانه از اشاعت است جلد نمبر۱۳ ص) گویا احمدیوں کی عورتوں سے جبر نکاح کرلینا بھی علماء کے نزدیک میں اسلام تھا۔اسی طرح یہ فتوی دیا کہ جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر مرتد ہے اور شرعا مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہوتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد ان کے پیدا ہوتے ہیں وہ ولد زنا ہوں گے یا افتوی در تکفیر منکر عروج جسمی و نزول حضرت عیسی علیہ اسلام مطبوعه السلام) تحریک احمدیت کے مخالف علماء نے صرف فتاوی ہی نہیں دیے بلکہ ان پر سختی سے عمل کرانے کی ہمیشہ کوشش کی جیسا کہ پر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے مرید مولوی عبد الاحد صاحب خانپوری کی کتاب مخادعت سیلمہ قادیانی (مطبوعہ لنشار) کی مندرجہ ذیل اشتعال انگیز تحریر سے ظاہر ہے کہ " طائفہ مرزائیہ بہت ذلیل و خوار ہوئے۔جمعہ اور جماعت سے نکالے گئے اور میں مسجد میں جمع ہو کر