محضرنامہ

by Other Authors

Page 150 of 195

محضرنامہ — Page 150

۱۵۰ " اچانک جناب مودودی صاحب نے اس صورتِ حال سے استفادہ کرنے اور اس آتش گیر مادہ کو اپنے مقصد کی خاطر استعمال کرنے کے لئے وہ تیلی دکھائی جسے قادیانی مسئلہ کا نام دیا گیا۔اس رسالہ کی اشاعت کا مقصد بھی بعینہ وہی تھا جو قبل از میں شائع ہونے والے لٹریچر کا تھا لیکن ظاہر یہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ اس میں دشنام طرازی اور مغلظات کم اور دلائل زیادہ ہیں۔سادہ لوح اور کم علم عوام کے نقطۂ نگاہ سے تو یہ بات شاید درست ہو جو دلائل کو جانچنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور میں طرح مجمع باز عطائی حکیموں کے ہاتھوں وہ رنگ ملا پانی اکسیر سمجھ کر خرید لیا کرتے ہیں اسی طرح قادیانی مسئلہ کو مدتل رسالہ کے طور پر قبول کر لیا ہو تو ہم کہ نہیں سکتے البتہ بعض مشہور غیر احمدی علماء کے نزدیک ان دلائل کی جو حیثیت تھی وہ جناب غلام احمد صاحب پرویز مدیر طلوع اسلام کے مندرجہ ذیل الفاظ سے ظاہر ہے :۔سب سے زیادہ اہمیت مودودی صاحب کے رسالہ " قادیانی مسئلہ کو دی جاتی ہے۔ہمارے نزدیک اس رسالہ کے دلائل اس قدر پوچ ہیں کہ ان کا تجزیہ کیا جائے تو وہ خود احمدیوں کے حق میں چلے جاتے ہیں " (مزاج شناس رسول صفحه ۴۲۳ ) آج ہم ان اعتراضات میں سے جو اس رسالہ میں اُٹھائے گئے ہیں اور آجکل پھر بکثرت ان کا اعادہ کیا جا رہا ہے ایک اہم مرکزی اعتراض کو لیتے ہیں کہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ اور چونکہ وہ ایسا نہیں کرتے لہذا ثابت ہوا کہ وہ الگ امت ہیں اور اس لائق ہیں کہ غیر مسلم اقلیت قرار دے دیئے جائیں۔اس اعتراض کا ایک جواب تو ہم نہایت اختصار کے ساتھ پیش کر رہے ہیں اسی جواب میں در اصل قادیانی مسئلہ کے اکثرو بیشتر اعتراضات کا جواب آجاتا ہے بلکہ اگر کوئی منصف مزاج قاری اسلامی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے تو یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اگر قادیانی مسئلہ اور اس قماش کے دوسرے لٹریچر کے دلائل کو تسلیم کر لی جائے تو قادیانی تو الگ رہے ہر دوسرے فرقہ کو از روئے انصاف غیرمسلم اقلیت قرار دینا بدرجہ اولیٰ فرض ہو جائے گا لیکن یہ محض ایک ضمنی سوال تھا اصل سوال جو اس وقت ہمارے