محضرنامہ — Page 153
١٥٣ میں خبردار کرتے ہیں کہ :۔وہابیہ وغیرہ مقلدین زمانہ باتفاق علمائے حرمین شریفین کا فرمرتد ہیں۔ایسے کہ جوائن کے اقوال ملعونہ پر اطلاع پا کر انہیں سے کا فرنہ جانے یا شک ہوں کرے خود کا فر ہے ارض کے پیچھے نماز ہوتے ہی نہیں۔انکے ہاتھ کا ذبیہ حرام۔ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔اُن کا نکاح کسی مسلمان کا فریا مرتد سے نہیں ہو سکتا۔ان کے ساتھ میل جول ، کھانا پینا ، اُٹھنا بیٹھنا، سلام کلام سب حرام۔ان کے مفصل احکام کتاب مستطاب حسام الحرمین شریف میں موجود ہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم۔دار الافتاء مدرسہ اہل سنت الجماعت آل سول احمدرضاخان شفیع احمدخان رضوی شتی حفی نیز ملاحظہ فرمائیے :۔بریلی بریلی قادری افتاوی ثنائیہ جلدم منه مرتبه الحاج مولانا محمد داود را از خطیب جامعہ اہلحدیث شائع کردہ مکتبہ اشاعت دینیات مومن پورہ بیٹی ) " تقلید کو حرام اور مقلدین کو مشرک کہنے والا شرعا کا فریبکہ مرتد ہوا اور حکام اہل اسلام کو لازم ہے کہ اس کو قتل کریں اور عذرداری اس کی بایں وجہ کہ مجھ کو اس کا علم نہیں تھا مشرعا قابل پذیرائی نہیں بلکہ بعد تو بہ کے بھی اس کو مارنا لازم ہے یعنی اگر چہ تو بہ کرنے سے مسلمان ہو جاتا ہے لیکن ایسے شخص کے واسطے شرعا یہی سزا ہے کہ اس کو حکام اہل اسلام قتل کر ڈالیں یعنی میں طرح حد زنا تو بہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی اسی طرح یہ حد بھی تائب ہونے سے دُور نہیں ہوتی۔علماء اور مفتیانِ وقت پر لازم ہے کہ بمجرد مسموع ہونے ایسے امر کے اس کے گھر اور ارتداد کے فتوے دینے میں تر قد نہ کریں ورنہ زمرہ مرتدین میں یہ بھی داخل ہوں گے " انتظام المساجد باخراج