حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ — Page 13
حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ 13 ہوگئی۔اور ان سب کی صدر حضرت ام ناصر صاحبہ تھیں۔شروع میں چار درس گاہیں (اسکول ) اور قرآن مجید پڑھانے اور سکھانے کیلئے کھولے گئے۔جن میں سے ایک حضرت امی جان کا گھر بھی تھا جو آپ نے خود پیش کیا۔جہاں آپ نے بہت سی عورتوں اور بچوں کو قرآن مجید ، کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور عربی سکھاتی تھیں۔آپ کی ایک بہت نمایاں خوبی اپنے مال کی ہر طرح قربانی کرنا تھی۔اور آپ اس میں اس قدر بڑھی ہوئی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کی ایک قربانی کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے اپنے الفاظ کے ذریعہ دنیا میں ہمیشہ کے لئے یادگار بنا دیا ہے۔جب 1913 ء میں اخبار الفضل، جاری کرنے کا ارادہ کیا تو اس وقت کی بات آپ کے اپنے قلم سے بہت خوبصورت طریقہ سے آپ خود پڑھ کر مزا لے سکتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح حضرت خدیجہ کے دل میں رسول کریم معدے کی مدد کی تحریک کی تھی۔انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں پیسہ لگانا ایسا ہی ہے۔جیسے کنویں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اس زمانہ میں شاید سب سے بڑا مذموم تھا۔اپنے دو زیور مجھے