حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ

by Other Authors

Page 14 of 22

حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ — Page 14

حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ 14 دے دیئے کہ ان کو فر وخت کر کے اخبار جاری کر دوں۔وہ بیوی جن کو میں نے اس وقت تک ایک سونے کی انگوٹھی بھی شاید بنوا کر نہ دی ہے۔اس کی یہ قربانی میرے دل پر نقش ہے اور اگر ان کی اور قربانیاں اور ہمدردیاں اور اپنی سختیاں اور تیزیاں میں نظر انداز بھی کر دوں تو ان کا سلوک مجھے شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔اس حسن سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دیئے جن سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا اور میری زندگی کے ایک نئے باب کا ورق الٹ دیا۔بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی ایک بڑا سبب پیدا کر دیا۔کیا ہی کچی بات ہے کہ عورت ایک خاموش کارکن ہوتی ہے لوگ اس دکان کو تو یا در کھتے ہیں جہاں سے عطر خرید تے ہیں مگر اس گلاب کا کسی کو بھی خیال نہیں آتا جس نے مرکر ان کی خوشی کا سامان پیدا کیا ہو۔“ آپ کے شوہر آپ کو گھر کے خرچ کے علاوہ جیب خرچ بھی اپنے ذاتی استعمال کے لئے دیا کرتے تھے۔آپ وہ سارا چندہ میں دے دیتیں تھیں۔ہر مالی تحریک میں حصہ بھی لیتیں۔یہاں تک کہ وصیت کا چندہ 13 اداء کرتی تھیں یعنی اپنی آمد کا تیسرا حصہ۔بے حد سلیقہ مند تھیں، فضول خرچ بالکل نہ تھیں، تبھی تو پیسے بچا کر چندے دینے کا شوق تھا۔پرانے جوڑوں کے اوپر لگے گوٹے اُتار کر نئے کپڑوں پر لگا کر پہنتیں تو لوگ