ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 67 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 67

مہاجرین نے اپنی آمد سے تجارتیں شروع کیں اور آہستہ آہستہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگے۔سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے نئے بھائی حضرت عبدالرحمن بن عوف کو بنو حارثہ کے محلے میں اپنے گھر لے گئے۔کھانا کھلایا اور بڑے پیار سے کہا کہ میں اپنا مکان باغ اور مال واسباب سب کچھ آدھا آدھا کر کے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔میری دو بیویاں ہیں ان کو دیکھ لیں جو آپ کو پسند آئے میں اُسے طلاق دے دوں گا آپ عدت کے بعد اُس سے نکاح کر لینا۔(اسدالغابہ جلد 4 صفحہ 86) حضرت عبدالرحمن نے کہا اللہ تعالیٰ تمہاری جان میں ، تمہارے گھر والوں میں اور تمہارے مال میں برکت عطا فرمائے۔مجھے صرف بازار کا راستہ بتا دیجئے۔اُن کو دعائیں دے کر بازار چلے گئے اور تجارت شروع کی جس میں بہت برکت پڑی اور آپ کا شمار بڑے تاجروں میں ہونے لگا اور آپ نے مدینہ کی ایک انصاری لڑکی سے شادی کر لی۔ان کی شادی کے واقعہ میں یہ سبق آموز پہلو بھی ہے کہ آنحضور نے آپ کے لباس پر زعفران کا رنگ دیکھ کر دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے حضرت عبد الرحمن نے بتایا کہ انہوں نے شادی کی ہے۔آپ نے پوچھا مہر کیا دیا ہے؟ عبدالرحمن نے کہا یا رسول اللہ کھجور کی ایک گٹھلی کے برابر سونا دیا ہے آپ نے فرمایا اولِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ اب ولیمہ کی دعوت گر دوخواہ صرف ایک بکری کے گوشت کی کیوں نہ ہو۔67 ( بخاری باب فضائل اصحاب النبی)