ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 66
میں مسلمان مردوں کی بے حرمتی کرتے تھے۔ناک کان کاٹ لئے جاتے تھے مگر آنحضرت صلی ا یہ تم نے اس رسم بد کو ترک کر دینے کا حکم دیا تھا۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 470) مدینے میں مسلمانوں کے اندر یکجہتی اور معاشی ہمواری پیدا کرنے کے لئے آپ نے مہاجرین مکہ اور انصارِ مدینہ کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔قدرتی طور پر ان دو گروہوں میں بہت فرق تھا ایک وہ جو اپنا گھر بار چلتے کاروبار سب چھوڑ آئے تھے اور ایک وہ جو ہر طرح سے ٹھیک ٹھاک اپنے گھروں اور کاروباروں میں مصروف تھے۔دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا اور نہ دنیا والوں نے ایسے مسئلے کا اتنا خوبصورت حل کبھی دیکھا تھا یہ تو ہمارے آقا و مولیٰ نبی کریم ان ایام کو خدا تعالیٰ کی عطا کی ہوئی سمجھ بوجھ تھی جو رنگ لائی۔آپ نے دعاؤں کے ساتھ ایک منصوبہ بنایا حضرت انس بن مالک کے گھر سب مہاجرین وانصار کو جمع کیا آپس میں اتحاد سے رہنے کی تلقین فرمائی اور عجیب فہم و فراست سے مردم شناسی کا مظاہر کرتے ہوئے ہم مزاج لوگوں کو جمع کیا دو دو کے جوڑے اس طرح بنائے کہ گویا وہ مزاج کے لحاظ سے سب سے زیادہ اس بات کے اہل تھے کہ اکٹھے کئے جائیں۔اُس دن قریباً نوے احباب کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ان نئے بننے والے بھائیوں نے بھی آنحضور علی نے پی ایم کے منشاء کو خوب سمجھا اور اتنے خلوص سے ایک دوسرے سے محبت کی جس کی مثال نہیں ملتی دونوں طرف خوشی تھی جوش تھا جیسے ایک دوسرے کو آرام وسکون پہنچانے کا مقابلہ شروع ہو گیا ہو۔انصار نے آپ سے عرض کیا ہمارے باغات ہیں انہیں آدھے آدھے کر کے ہم میں اور مہاجر بھائیوں میں تقسیم فرما دیں۔مہاجرین تجارت پیشہ تھے جبکہ انصار کھیتی باڑی کرتے تھے مہاجرین کے لئے کام نیا تھا انصار نے کہا ٹھیک ہے کام ہم خود کریں گے اور جو آمد ہوگی وہ آدھی آدھی کرلیں گے 66