لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 81

لجة النُّور ΔΙ اردو ترجمہ فإن القوم جعلوا القرآن عِضِينَ، ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اُن میں سے بعض نے وادعى بعضهم أنهم من یہ دعویٰ کیا کہ وہ اہل حدیث میں سے ہیں۔المحدثين، وشمّروا عن انہوں نے مقلدین کو خطا وار قرار دینے کے ذراعيهم لتخطية المقلّدين لئے اپنی آستینیں چڑھا لیں اور دوسرے وہ وقوم آخرون يقولون إن الإسلام لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ شریعت اسلام اس قد بطل في هذا الزمان شَرعُه۔زمانہ میں باطل ہو گئی ہے اور اس کی چھاتیاں وتجدّدَ ضَرْعُه، وقالوا ما هو إلا خشک ہو گئی ہیں ، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو صرف كسمر البارحة، وليس كمرُهم گزشتہ رات کے افسانے ہیں اور یہ زخموں کی بقية الحاشية - الاتباع، والغرض بقیہ ترجمہ۔جاتی ہے اور اس کی غرض اجماع کی منه مدح الإجماع۔وقالوا مَن شدَّ مدح کرنا ہے۔کہتے ہیں کہ جس نے انفرادیت وانفرد عن الجمهور، فمثله كمثل اختیار کی اور جمہور سے علیحدہ ہوا تو اس کی مثال رجل نزل بتلعةٍ وما نزل بنجد من اس شخص کی طرح ہے جو کہ نشیبی زمین پر بیٹھ گیا اور الحسور، فجاء السيل وجرف به تھکن کے باعث بلند مقام پر نہ چڑھا۔پس مع جميع ما كان من البعاع سیلاب آیا اور اُسے اس کے سارے ساز و سامان فالغرض أن المرء علی خطرفی سمیت بہالے گیا۔پس اس سے غرض یہ ہے کہ الانفراد وفي التلاع۔هذا وأنا أقول انسان تنہائی اور نشیبی جگہوں پر ہمیشہ خطرہ کی حالت۔إن هذه الأمثال لیست فی کل میں ہوتا ہے۔یہ ایک مثل ہے مگر میں یہ کہتا ہوں محل واجبة الاتباع، وإنهم ما کہ ایسی امثال ہر جگہ واجب العمل نہیں۔انہوں فهموا مواردها وما نطقوا إلا نے اس کے موقع محل کو نہیں سمجھا اور نادانوں کی كالشاع۔وما آمنوا بالنبیین طرح کلام کیا۔وہ سچے انبیاء پر جو ( ابتدا میں ) الصادقين المنفردين وصالوا عليهم تنہا ہوتے ہیں ایمان نہیں لائے اور اُن پر درندوں کی طرح حملہ کر دیا۔منہ كالسباع منه