لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 82

لُجَّةُ النُّور ۸۲ اردو ترجمہ القروح بل كالأشياء القارحة مرہم نہیں بلکہ (خود) زخم پیدا کرنے والی اشیاء کی وقد بقوا تلك الآراء ، ونقوا طرح ہے۔انہوں نے ان آراء کو کثرت سے پھیلا هذه الأهواء۔فانظر كيف تمادى دیا اور ان ہوائے نفس کو فاش کر دیا ہے۔پس دیکھ کہ اعتياط المسير، وسرَتْ هذه كس طرح اس راہ کی پیچیدگی اور دشواری طول پکڑ العقيدة في أكثر الناس من گئی ہے اور یہ عقیدہ فقیر سے لے کر امیر تک اکثر الفقير و الأمير ، و صارت لوگوں میں سرایت کر چکا ہے۔اور حکام کی نظر میں الشريعة كبئر معطلة ومصر شریعت ایک متروک کنوئیں اور ویران شہر کی طرح حصيد في أعين الحكام ہو گئی ہے۔اسلامی حکومتوں سے اس (شریعتِ فلا يُحرَزُ جَنَى عُودِها كما هو اسلامیہ کی شاخ کے ثمرات کما حقہ حاصل نہیں ہو حقها مِن دُول الإسلام، وما سکے۔گناہ کی سزا کے وقت ہماری ملت کے نرى ملكًا من ملوك ملّتنا عند بادشاہوں میں سے کوئی بھی ایسا بادشاہ ہمیں دکھائی (۷۵) الأثام أن يراعى حدود الشريعة نہیں دیتا کہ جو احکام نافذ کرتے وقت شریعت کی عند تنفيذ الأحكام، بل يتوغرون حدود کا خیال رکھتا ہو۔بلکہ جب انہیں اس راستے غضبًا إذا وعظوا لهذه السبیل کے لئے وعظ کیا جائے تو وہ غصہ سے بھڑک اٹھتے ولا يخافون قهر الرب الجلیل ہیں اور رپ جلیل کے قہر سے نہیں ڈرتے۔وہ يقطعون الأنوف ويفقَؤون ناکیں کاٹتے ہیں اور آنکھیں پھوڑتے ہیں اور ادنی العيون ، و يحرقون بادنی جرم سے جرم پر جلا دیتے ہیں اور غرق کر دیتے ہیں۔اس ويُغرقون، و مع ذالك کے باوجود یقین کو تلاش نہیں کرتے اور ظنون کی لا يستقرون اليقين ويتبعون پیروی کرتے ہیں۔ان کے اشتعال میں آجانے پر الظنون۔يُذبح كثير من الناس بہت سے لوگ ذبح کئے جاتے ہیں۔اور تھوڑے عند اشتعالهم، وقَلَّ مَن غُمِرَ ہیں جو ان کے عطیات سے نوازے گئے ہیں۔وہ بنوالهم۔يقتلون الناس بقصاصة، معمولی سی چیز پر لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں