لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 80

لُجَّةُ النُّور ۸۰ اردو ترجمہ يتـــزيــد۔و افتـــرقـــت الأمة | كلمات میں کبھی تحریف کرتا ہے تو کبھی زیادتی۔الإسلامية و ركب كل امت اسلام فرقوں میں بٹ گئی ہے اور ہر ایک أحد جدة من الأمر، نے (دین کے معاملہ میں ) اپنی الگ راہ اختیار فذهب رجال إلى قوانين کرلی ہے۔پس ان گروہوں میں سے کچھ افراد القدرة والفطرة من الزمر، قوانين قدرت اور فطرت کے پیچھے چل پڑے وقالوالن نقبل معجزاتِ ہیں (یعنی نیچری مذہب اختیار کر لیا ہے ) اور الأنبياء والكرامات، فإنها کہتے ہیں کہ ہم انبیاء کے معجزات اور کرامات کو قصص لا يصدقها قانون الفطرة ہرگز قبول نہیں کرتے۔یہ محض قصے ہیں جن کی ولا نجد نموذجًا منها في سلسلة قانون فطرت تصدیق نہیں کرتا اور نہ ہی ہمیں المشاهدات۔واختار قوم سوادًا مشاہدات کے سلسلہ میں ان کا کوئی نمونہ ملتا أعظم ولو جمع الأشرار ہے۔کچھ لوگوں نے سواد اعظم کو اختیار کر لیا خواہ وقالوا مَن سلك الجَدَدَ وہ شریر لوگوں کا ہی گروہ ہو اور کہتے ہیں کہ جس أمِنَ العِثار۔ولا يعلمون أنّ نے اجماع کی راہ اختیار کی وہ ٹھوکروں سے بچ الإجماع قد كان إلى زمن گيا۔لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اجماع صرف ہے الصحابة، ثم حدث الفيجُ صحابہ کے زمانہ تک تھا۔پھر فیج اعوج وقوع پذیر الأعوج و انحرف كثير منھم ہوا۔اور ان میں سے بہت سے لوگ صراط مستقیم من الجادّة ، و لذالك سے منحرف ہو گئے۔اسی لئے رحمن (خدا) کی (۷۴) اشتدت الضرورة إلى بعث طرف سے ایک حکم کی بعثت کی ضرورت الحكم من الرحمن، وكان شدت اختیار کر گئی ، اور یہ خدائے منان کی ذالك وعد من الله المنان طرف سے وعدہ بھی تھا۔پس قوم نے قرآن کو الحاشية - هذا مثل من ترجمہ۔یہ جاہلیت کی ضرب الامثال میں سے ایک أمثال الجاهلية، يُضرب حقًّا على مثل ہے جو اتباع پر ترغیب دینے کے لئے بیان کی