لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 16

لُجَّةُ النُّور ۱۶ اردو ترجمہ وسالت سيوله ۔ وترون بحور اس کے سیلاب بہہ رہے ہیں ۔ تم دیکھ رہے ہو کہ الفتن متموجة، وآفات الأرض فتنوں کے سمندر ٹھاٹھیں مار رہے ہیں اور زمینی في ظهورها متوالية، وكثرت آفات پے در پے اپنا ظہور کر رہی ہیں ۔ فاسقوں أحزاب الفاسقين، وقلت جماعة کے گروہوں کی کثرت ہو گئی ہے اور متقیوں کی المتقين۔ والذين قالوا إنا نحن جماعت کم ہو گئی ہے۔ وہ لوگ جو کہتے تھے کہ ہم على دين الله الإسلام، أمات يقينا الله تعالیٰ کے دین اسلام پر قائم ہیں ارتکاب قلوب أكثرهم سم الاجترام جرم کے زہر نے اُن میں سے اکثر کے دلوں کو فما بقى في أكفهم إلا اسم الدين مردہ کر دیا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں دین کے نام وصاروا كالأنعام ۔ واستبدلوا کے سوا کچھ باقی نہیں رہا اور وہ چوپایوں کی طرح الخبيثات بالذي هو من ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے پاک چیزوں کے بدلے الطيبات، وغشوا طبائعهم میں پلید چیزیں لیں اور اپنی طبائع کو ظلمات کے بغواشي الظلمات، وأعرضوا عن | پردوں سے ڈھانپ دیا ہے۔ انہوں نے عالم سفلی ذكر الله بتوجههم إلى العالم اور شہوات کی طرف توجہ کے سبب اللہ کے ذکر سے السفلى والشهوات ۔ فلما اعراض کیا۔ پس جب انہوں نے حق تعالیٰ کی أعرضوا عن جناب الحق ركدت جناب سے اعراض کیا تو ان کے نفس ( ایک ہی ) نفوسهم، وانجذبت قريحتهم جگہ ٹھہر گئے اور خبیث چیزوں سے ان کی إلى الزخارف الدنيوية و مناسبت کی وجہ سے ان کی طبائع دنیوی چمک المقتنيات المادية لمناسبتهم دمک اور مادی اشیاء کی طرف جھکنے لگیں اور بالخبيثات، واشتد حرصهم ان كے بارہ میں ان کی حرص، شہوت اور ونهمتهم وشغفهم بها وألقاهم رغبت بڑھ گئی اور ان کے نفسوں کی طمع نے شح نفوسهم فى السيئات، انہیں برائیوں میں ڈال دیا۔ اور وہ دنیا اور وتمايلوا على الدنيا وزخارفها اس کی فانی چمک دمک کی طرف مائل ہو گئے ۔