لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 17

لجَّةُ النُّور لا اردو ترجمہ الفانيـات، وكلما استكثروا جب کبھی بھی انہوں نے اس (دنیا) کی فيها و از داد حرصهم کثرت چاہی اور ان کی اس میں حرص اور عليها وشُحهم بها رجعوا خائبين طمع بڑھی تو وہ ہمیشہ اپنی مرادیں کامیابی غير فائزين إلى المرادات سے حاصل کیے بغیر نا کام اور خائب و خاسر وما كانت عاقبة أمرهم إلا لوئے۔ان کے اس امر کا انجام سوائے الضنك في المعيشة، وانتياب رزق میں تنگی اور بار بار روح کو اذیت الأذى على المُهجة وما نفعهم پہنچنے کے اور کچھ نہیں۔ان کے دنیا کی خاطر كذبهم و كيدهم و صخبهم جھوٹ ، سازشوں اور شور وشغب نے انہیں لدنياهم واستأصل الله الراحة کچھ فائدہ نہ دیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے من قلوبهم، وأزال اضطجاع دلوں سے راحت کھینچ لی اور امن کا قرار الأمن من جنوبهم وتركهم فی ان کے پہلوؤں سے دور کر دیا اور دین أنواع الغم و التشوّشات مع سے تغافل اور گمراہیوں کے ساتھ ساتھ التغافل من الدين والضلالات و انہیں گونا گوں غموں اور تشویشوں میں ما بقى لهم ذوق في المناجاة ، چھوڑ دیا۔ان کے لیے دعاؤں میں ذوق ولا تلذذ في العبادات اور عبادات میں لذت باقی نہ رہی۔پس فحاصل الكلام أن الناس فى حاصل كلام یہ کہ ہمارے اس زمانہ میں زماننا هذا قد انقسموا لوگ دو قسموں میں تقسیم ہو گئے ہیں، اور إلى قسمين، ولحق كل قسم رب دو جہاں کی مشیت سے ہر قسم کو مرض مرض بقَدَرِ ربّ الكونين لاحق ہو گیا ہے۔پس پہلی قسم قوم نصاری فالقسم الأول قوم النصارى، و ہے ، تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ دنیا کی خاطر تراهم للدنیا کالسکاری و مد ہوش کی طرح ہیں اور مخلوق کی پرستش في عبادة المخلوق كالأسارى میں قیدیوں کی طرح۔اور دوسری