لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 143

لُجَّةُ النُّور ۱۴۳ اردو ترجمہ وكان كل ذالك كسيل عاجز آچکے تھے۔ یہ سب کچھ بہا لے جانے والے جراف أهلك كثيرا من سیلاب کی مانند تھا۔ جس نے بہت سے لوگوں کو الناس۔ وضنَاتُ كلّ نفس ہلاک کر دیا۔ ہر نفس نے قسما قسم کے وساوس کو جنم من أنواع الوسواس، وارتاعت دیا۔ دل ڈر گئے اور بے قراریاں شدت اختیار کر القلوب، واشتدت الكروب گئیں شیطان نے مسلمانوں کے ایمان کے گرد و دار الشيطان حول إيمان چکر لگایا اور اس نے ارادہ کیا کہ وہ ان کے دلوں المسلمين، وأراد أن يُخرج سے مومنوں والا نور نکال دے ۔ اُس نے اپنی من صدورهم نور المؤمنین چاندی اور اپنے چمکدار شفاف پانی ، اپنے وقصدهم بفضته و فضیضه نیزوں اور اپنی تلواروں ، اپنی بدیر اور جلد ملنے وسمره وبيضه، و آجله والی متاع، اپنے سواروں اور اپنے پیادوں ، وعــاجـلــه، وفارسه و راجله اپنے صحت مندوں اور اپنے لاغروں ، اپنے نیزہ وصارمه و ذابله، ورامحه زنوں اور اپنے تیر اندازوں کے ساتھ اُن کا قصد ونابله، واشتدّ زحفه عليهم، کر لیا تھا۔ اُس کے لشکر نے اُن پر سختی کی اور ہر وكلُّ كَمي نهض إليهم، بہادر سوار اُن کی طرف اٹھ کھڑا ہوا۔ قریب تھا وكاد أن يناشوا ويُمضغوا کہ وہ ریزہ ریزہ کر دیئے جاتے اور ان کے تحت أسنانهم، ويمزقوا دانتوں کے نیچے پیں دیئے جاتے اور ان کے بسنــانهم۔ وكانوا في ذالك نیزوں سے پارہ پارہ کر دیئے جاتے۔ وہ متر د دین مبهوتين، وعلى (مسلمان) اس حالت میں متردد اور مبہوت ۱۳۵ شفا حفرة قائمين مرتاعين تھے ۔ وہ گڑھے کے کنارے پر سہمے ہوئے کھڑے فإذا نظر إليهم حضرة تھے۔ پس اس وقت رب العزت نے اُن کی طرف العزة، وتداركهم يد الرحمة نظر کی اور انہیں رحمت کے ہاتھ نے تھام لیا۔ و بدلت الأرض غير الأرض زمین کسی اور زمین سے بدل دی گئی اور اُس کے