لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 139

لُجَّةُ النُّور ۱۳۹ اردو تر جمه وكرام الناس، فسعوا إليه بالعین سے ہے تو وہ بسر و چشم اُس کی طرف دوڑتے والرأس، وقالوا یا سیدنا ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے آقا ! آپ تمام أنت خيرُ مَن بُرء و ذُرء مخلوق سے بہتر ہیں۔پس ہمیں بھی صدقہ دے فتصدق علينا واغسلنا من اور ہمیں افلاس کی ) میل سے پاک کر۔مگر الأدناس۔وأما فقراء القوم جہاں تک قوم کے غرباء کا تعلق ہے تو وہ ان فيشربون دماء هم ويلعنون غریبوں کا خون پیتے ہیں۔اور ان کے آبا و اجداد آباء هم، وإذا اقتدر أحد پر لعنت ملامت کرتے ہیں۔اور اگر ان علماء منهم فآذى الجار وجار میں سے کسی کو اقتدار حاصل ہو جائے تو وہ وما رحم ومـ حم وما أجار، بل إذا ہمسائے کو اذیت دیتا ہے اور ظلم کرتا ہے۔رحم (۱۳۰) أفرصته الفرصة فجرعه من نہیں کرتا اور نہ ہی پناہ دیتا ہے بلکہ اگر اس کو الـحـمـيــم۔ولو كان أحد موقع مل جائے تو اسے گرم پانی پلاتا ہے خواہ وہ كالولي الحميم، وما امتنع من قریبی گہرا دوست ہی ہو۔وہ منافقانہ طرز عمل التخليط ولو بالخليط۔سے باز نہیں آتا خواہ یہ معامله شریک دوست وأخرج لهوى النفس فی کے ساتھ ہی ہو۔اور آرزوئے نفس کے لئے ہر كل أمر طريقًا، ولا غادر کام میں کوئی نہ کوئی طریقہ نکال لیتا ہے۔نہ شفيقا ولا شقيقا۔ومن دوست کو چھوڑتا ہے اور نہ بھائی کو۔اور جو ہر قسم أحسن إليه بأنواع الآلاء کی نعمتوں کے ساتھ اُس پر احسان کرے اور وســـقــــاه كأس الأيادي اُسے نعمتوں اور احسانات کا جام پلائے تو بدلہ والنعماء۔فما كافاً بالعشير، میں اُس کا عشر عشیر بھی ادا نہیں کرتا۔خواہ ساتھی ولو كان زوجا أو من العشير، هو يا قرابت داروں میں سے ہو۔وہ کسی پر پانی ہو یا وما أحسن إلى أحد بدلو من کے ایک ڈول سے بھی احسان نہیں کرتا۔بلکہ خود الماء ، بل استقل جزيل الآخرين پسندی اور تکبر سے دوسروں کے احسانِ کثیر کو کم تر