لباس — Page 41
43 میاں بیوی کے حقوق و فرائض میں سب سے بہتر ہوں۔آپ گھر میں ہنستے کھیلتے ، اہل وعیال سے خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ازواج مطہرات سے مزاح کرتے اور ان کی دل لگی فرماتے۔گھر کے کاموں میں مدد فر ماتے۔اگر کوئی بی بی آٹا گوند رہی ہوتی تو پانی لادیتے۔کھانا تیار ہورہا ہوتا تو چولہے میں لکڑیاں ڈال دیتے۔گویا کہ بلا تکلف گھر کے کام کاج کرتے۔احادیث میں آپ کی یہ سیرت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔الْيَنُ النَّاسِ وَأَكْرَمُ النَّاسِ۔کہ آپ لوگوں میں سے سب سے زیادہ نرم اور سب سے زیادہ کریم تھے۔ایک بارحج کے موقع پر حضرت صفیہ کا اونٹ بیٹھ گیا اور وہ پیچھے رہ گئیں۔نبی کریم نے دیکھا کہ وہ زار و قطار رو رہی ہیں۔آپ رُک گئے اور اپنی دستِ مبارک سے چادر کا پلو لے کر ان کے آنسو پونچھے۔آپ آنسو پونچھتے جاتے تھے اور وہ بے اختیار روتی جاتی تھیں۔رشته زوجیت میں آتے وقت ایک بی بی بہت سے مراحل سے گزر کر آتی ہے۔اپنے پیارے والدین اور عزیز بہن بھائیوں اور دیگر اعزاء سے بچھڑ کر اُن کے ساتھ پیار ومحبت کی یادگار یادوں کو چھوڑ کر ایک ان جانے مرد کے دامن میں آبستی ہے۔اور سخت اور تلخ واقعات و تجربات سے گزر کر وہ عورت تمام عمر اُس خاندان کا بھرم “ اور ”عربت قائم رکھنے کی خاطر مختلف اشکال میں قربانی وایثار کا مجسمہ بنی رہتی ہے۔اپنی تمام عمر گھڑی کی سوئیوں کی طرح متحرک گزارتی ہے۔اس کے کسی کام میں چند منٹ کی تاخیر تمام عمر اس کے لئے حرف شکایت کی چابی بن جاتی ہے اور شادی کے آغاز پر بی بی کی آنکھوں کے آنسو پونچھ کر اس کے دامن میں دُنیا کی تمام خوشیاں ڈال دینے کے بلند و بانگ دعوی کرنے والے جیون ساتھی کچھ ہی عرصہ بعد اپنی نظریں بدل لیتے ہیں۔