لباس — Page 42
44 میاں بیوی کے حقوق و فرائض اور آج اُن میں سے بعض ایسے ہیں جو بات بات پر اپنی بیوی پر ہاتھ اُٹھا لیتے ہیں گالی گلوچ تک نوبت آتی ہے۔بیوی کے ماں باپ کو طعنے دیئے جاتے ہیں۔مرچ ذرا تیز ہوگئی تو فساد برپا ہو گیا۔کھانا دیر سے ملاتب بے سکونی پیدا کی۔ایک درشتی اور سختی کا سلوک ہے جو دیکھنے کو ملتا ہے۔گویا گھر کی کیفیت Police State سے کم نہیں ہوتی اور جب دلوں میں فرق اور کدورت پیدا ہو تو پھر شکوہ شکایت کے دفتر کھلتے ہیں اور ایک دوسرے کی پردہ دری ،عیب شماری ہوتی ہے اور یوں بات گھر سے باہر نکلتی ہے اور کا مفہوم تار تار ہوکر رہ جاتا ہے۔کے مفہوم کو مد نظر رکھتے ہوئے عورت کی لغزشوں اور غلطیوں کو نظر انداز کرنا بھی تو مردانگی ہے اور ایک خوبی ہے۔فریق ثانی کوئی فرشتہ تو نہیں۔کیا غلطی مرد سے سرزد نہیں ہوسکتی۔ایک دفعہ کچھ سہیلیاں ایک محفل میں اپنے خاوندوں کی خوبیوں کا ذکر کر رہی تھیں۔حضرت عائشہ بھی وہاں موجود تھیں۔ایک خاتون نے اپنے خاوند ابوزرعہ کی خوبیاں بہت اچھے انداز میں بیان فرما ئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : کیا میں ابوزرعہ جیسا ہوں۔حضرت عائشہؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ اس سے بھی کہیں بہتر ہیں۔(شمائل ترمذی) آپ نے فرمایا اگر مومن مرد اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے اس کا بھی ثواب ملے گا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ رضوان اللہ علیہم کو حسن معاشرت کی اس قدر تا کید تھی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ہمارا یہ حال ہو گیا تھا کہ ہم اپنے گھروں میں اپنی عورتوں سے بے تکلفی سے گفتگو کرنے سے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ شکایت نہ کر دیں اور ہمارے خلاف کوئی آیت ہی نازل نہ ہو جائے۔(بخاری کتاب النکاح باب الوصايا بالنساء)