کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 42 of 162

کتابِ تعلیم — Page 42

۴۲ بے قراری اور جزع فزع نہ دکھلا دیں۔جب تک کہ آزمائش کا حق پورا ہو جائے یہی استقامت ہے جب سی خدا ملتا ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صدیقوئی اور شہیدوی کی خاک سے اب تک خوشبو آ رہی ہے اسی کی طرف اللہ جل شانہ اس دُعا میں اشارہ فرماتا ہے :- اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ (الفاتحه :) علَيْهِمْ۔یعنی اسے ہمار سے خدا ہمیں استقامت کی راہ دکھلا وہی راہ جس پر تیرا انعام واکرام مترتب ہوتا ہے۔اور تو راضی ہو جاتا ہے۔اور اسی کی طرف دوسری آیت میں ارشاد فرمایا : رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (الا ا ا : اسے خدا تعالیٰ ! اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جیں سے صبر آجائے اور ایسا کہ کہ ہماری موت اسلام پر ہو۔جاننا چاہیئے۔کہ دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نوکر اتارتا ہے جسکی وہ قوت یا کہ نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوت ایمانی سے اُن زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں اُن کے پیروں میں بیڑیں۔جب با خدا آدمی پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور موت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے رب کریم سے خواہ نخواہ کا جھگڑا شروع نہیں کرتا کہ مجھے ان بلاؤں سے بچا۔کیونکہ اس وقت عافیت کی دعا میں اصرار کرتا خدا تعالیٰ سے لڑائی اور موافقت نامہ کے مخالف ہے۔بلکہ سچا صحت بلاء کے اُترنے سے اور آگے قدم رکھتا ہے۔اور ایسے وقت میں جان کو نا چیز مجھ کر اور جہان کی محبت کو الوداع کہہ کر اپنے مولیٰ کی مرضی کا ملکی تابع ہو جاتا ہے اور اس کی