کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 43 of 162

کتابِ تعلیم — Page 43

۴۳ رضا چاہتا ہے۔اسی کے حق میں اللہ جلشانہ فرماتا ہے :- وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللهِ وَالله رَؤُنُ بِالْعِبَادِ - (البقرة : ٢٠٨) یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا تعالیٰ کی مرضی خرید لیتا ہے۔وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رحمت خاص کے مورد ہیں غرض وہ استقامت جیسی خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی۔جس کو سمجھنا ہو سمجھ ہے۔ساتوان وسیله اصل مقصود کے پانے کے لئے راستبازوں کی صحبت اور ان کے کامل نمونوں کو دیکھنا ہے۔پس جاننا چاہیے کہ انبیاء کی ضرورتوں میں سے ایک یہ بھی ضرورت ہے کہ انسان طبعا کامل نمونہ کا محتاج ہے اور کامل نمونہ شوق کو زیادہ کرتا ہے اور ہمت کو بڑھاتا ہے۔اور جو نمونے کا پیرو نہیں وہ شکست ہو جاتا ہے اور بہک جاتا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔كُونُوا مَعَ الصَّادِقِيْنَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ هِ یعنی تم ان لوگوں کی صحبت اختیار کرو جو راستباز ہیں ان لوگوں کی را ہیں سیکھو جن یہ تم سے پہلے فضل ہو چکا ہے۔آٹھواں وسیلہ خدا تعالی کی طرف سے پاک کشف اور پاک الہام اور پاک خواہیں ہیں۔چونکہ خدا تعالی کی طرف سفر کرنا ایک نہایت دقیق در دقیق راہ ہے اور اس کے ساتھ طرح طرح کے مصائب اور دکھ لگے ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ انسان اس نا دیدہ راہ میں بھول جائے یا نا امیدی طاری ہو اور آگے قدم بڑھانا چھوڑ دے۔اس لئے خدا تعالیٰ کی رحمت نے چاہا کہ :- التوبه : ۱۲۰ ب : الفاتحه : ۶ :