کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 41 of 162

کتابِ تعلیم — Page 41

۴۱ عَلَيْهِمُ المَلائِكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ اليوم في العبوة الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ - (لحم سجدة (۲۱) یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور باطل خداؤں سے الگ ہو گئے۔پھر استقامت اختیار کی یعنی طرح طرح کی آزمائشوں اور بلا کے وقت ثابت قدم رہے اُن پر فرشتے اتر تے ہیں کہ تم مت ڈرو اور مت غمگین ہو بلکہ خوش ہو اور خوشی میں بھر جاؤ کہ تم اس خوشی کے وارث ہو گئے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ہم اس دنیوی زندگی میں اور اخرت میں تمہارے دوست ہیں۔اس جگہ ان کلمات سے یہ اشارہ فرمایا کہ اس استقامت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔یہ سچ بات ہے کہ استقامت فوق الکرامت ہے۔کمالی استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں اور خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبرو کو معرض خطر میں پادیں اور کوئی تقسیتی دینے والی بات موجود نہ ہو یہاں تک کہ خدا تعا لئے بھی امتحان کے طور پر یستی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند کردے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے اُس وقت نامردی نہ دکھلا دیں۔اور بزدلوں کی طرح پیچھے نہ ہٹیں اور وفاداری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ نہ ڈالیں۔ذلت پر خوش ہو جائیں۔موت پر راضی ہو جائیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے۔نہ اس وقت خدا کی بشارتوں کے طالب ہوں کہ وقت نازک ہے اور باوجود سراسر بے کسی اور کمزور ہونے کے اور کسی تسلی سے نہ پانے کے سیدھے کھڑے ہو جائیں اور ہرچہ بادا باد کہ کہ گردن کو آگے رکھ دیں۔اور قضاء وقدر کے آگے دم نہ ماریں اور ہرگز