کتابِ تعلیم — Page 40
۴۰ چوتھا وسیلہ خدائے تعالیٰ نے اصل مقصود کو پانے کے لئے دُعا کو ٹھہرایا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی تم دعا کر دئیں قبول کروں گا۔اور بارہ بار دعا کے لئے رغبت دلائی ہے تا انسان اپنی طاقت سے نہیں بلکہ خدا کی طاقت سے یاد ہے۔پانچواں وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھہرایا ہے۔یعنی اپنا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ ہے۔اور اپنی طاقتوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی عقل کو خدا تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اس کو ڈھونڈا جائے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے :- جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ الله - التوبه (1) وَمِمَّا رَزَقَنْهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره: (( وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِ يَنَّهُمْ سُبُلَنَا - (العنكبوت : ١٩) یعنی اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کردو اور جو کچھ تم نے عقل اور علم اور فہم اور ہنر وغیرہ تم کو دیا ہے وہ سب کچھ خدا کی راہ میں لگاؤ۔جو لوگ ہماری راہ میں ہر ایک طور سے کوشش سجالاتے ہیں ہم ان کو اپنی راہیں دکھا دیا کرتے ہیں۔چھٹا وسیلہ اصل مقصود پانے کے لئے استقامت کو بیان فرمایا ہے۔یعنی اس راہ میں درماندہ اور عاجزہ نہ ہو اور تھک نہ جائے اور راہ اور امتحان سے ڈر نہ جائے۔جیسا کہ اللہ تعالے فرماتا ہے :- إن الذين قالوا رَبُّنَا اللهُ لَمَّا اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ