کتابِ تعلیم — Page 39
۳۹ قرآن شریف نے فرمایا ہے۔قُلْ هُوَ اللهُ احد - الله الصمد۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كَفَوًا أَحَدٌ یعنی جدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔سب اس کے حاجت مند ہیں۔ذرہ ذرہ اس سے زندگی پاتا ہے وہ کل چیزوں کے لئے مبداء فیض ہے اور آپ کسی سے فیضیاب نہیں۔وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ اور کیونکر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔قرآن نے بارہ بارہ خدا کا کہاں پیش کر کے اور اس کی عظمت دکھا کے لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ دیکھو ایسا خدا دلوں کا مرغوب ہے نہ کہ مردہ اور کمزور اور کم رحم اور قدرت۔تیسرا وسیله جو مقصود حقیقی تک پہنچنے کے لئے دوسر سے درجہ کا زینہ ہے خدا تعالیٰ کے احسان پر اطلاع پاتا ہے۔کیونکہ محبت کی محرک دو ہی چیزیں ہیں حسن یا احسان اور خدائے تعالیٰ کی احسانی صفات کا خلاصہ سورۃ فاتحہ میں پایا جاتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔الحمد لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ - مَالِكِ يَوْمِ الدِّينَ " کیونکہ ظاہر ہے کہ احسان کامل اس میں ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو محض نابود سے پیدا کر لے اور پھر ہمیشہ اُس کی ربوبیت ان کے شامل حال ہے۔اور وہی ہر ایک چیز کا آپ سہارا ہو۔اس کی تمام قسم کی رحمتیں اس کے بندوں کے لئے ظہور میں آئی ہوں۔اور اس کا احسان بے انتہا ہو جس کا کوئی شمار نہ کر سکے۔سو ایسے احسانوں کو خدا تعالیٰ نے بار بار بتلایا جیسا کہ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔وَاِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لَا تَحْفُوهَا یعنی اگر خدائے تعالیٰ کی نعمتوں کو گنا چاہو تو ہرگزر گین نہ سکو گے۔ل : الاخلاص : له : الحمد : ا سے :۔ابراہیم : ۳۵