کتابِ تعلیم — Page 156
184 عبادت کرنا۔فسق و فجور سے بچنا اور کل محرمات الہی سے پر ہیز کرنا اور اوامر کی تعمیل میں کمر بستہ رہنا۔دوم یہ کہ حق العباد ادا کرنے میں کو تا ہی نہ کرے اور بنی نوع انسان سے نیکی کرے بنی نوع انسان کے حقوق بجا نہ لانے والے لوگ خواہ حق اللہ کو ادا کرتے ہی ہوں بڑے خطرے میں ہیں کیونکہ اللہ تعالے تو ستا رہے۔غفار ہے۔رحیم ہے اور حلیم ہے اور معاف کرنے والا ہے۔اس کی عادت ہے کہ اکثر معاف کر دیتا ہے مگر بندہ (انسان) کچھ ایسا واقع ہوا ہے کہ کبھی کسی کو کم ہی معاف کرتا ہے۔پس اگر انسان اپنے حقوق معاف نہ کرے تو پھر وہ شخص جس نے انسانی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہو یا ظلم کیا ہو خواہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری میں گوشاں ہی ہو۔اور نماز روزہ وغیرہ احکام شرعیہ کی پابندی کرتا ہی ہو۔مگر حق العباد کی پروا نہ کرنے کی وجہ سے اس کے اور اعمال بھی حبطہ ہونے کا اندیشہ ہے۔غرض موسن حقیقی وہی ہے جو حق اللہ اور حق العباد دونوں کو پورے التزام اور احتیاط سے بجالا د ہے۔جو دونوں پہلوؤں کو پوری طرح سے تار نظر رکھ کر اعمال بجالاتا ہے وہی ہے کہ پورے قرآن پر عمل کرتا ہے۔ورنہ نصف قرآن پر ایمان لاتا ہے۔مگر یہ ہر دو قسم کے اعمال انسانی طاقت میں نہیں کہ بزور بازو اور اپنی طاقت سے بجالانے پر قادر ہو سکے۔انسان نفس امارہ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور توفیق اس کے شامل حال نہ ہو کچھ بھی نہیں کر سکتا۔لہذا انسان کو چاہیے کہ دعائیں کرتا رہے تاکہ خدا تعالٰی کی طرف سے اُسے نیکی پر قدرت دی جاوے اور نفس امارہ کی قیدوں سے رہائی عطا کی جاوے۔یہ انسان کا سخت دشمن ہے۔اگر نفس امارہ نہ ہوتا تو شیطان بھی نہ ہوتا۔یہ انسان کا اندرونی دشمن اور مایہ آستین ہے۔اور