کتابِ تعلیم — Page 155
۵۵ پہنچائے۔اور اس کی صورت یہ ہے۔اُن کو خدا کی محبت پیدا کرنے اور اس کی توحید پر قائم ہونے کی ہدایت کرنے۔جیسا کہ وَتَوا صَوا بالحق - سے پایا جاتا ہے۔انسان بعض وقت خود ایک امر کو سمجھ لیتا ہے لیکن دوسرے کو سمجھانے پر قادر نہیں ہوتا۔اس لئے اس کو چاہیے کہ محنت اور کوشش کر کے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا دو ہے۔ہمدردی خلائق یہی ہے کہ محنت کہ کے دماغ خرچ کر کے ایسی راہ نکالے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے۔تا کہ عمر دراز ہویا د تفسیر سوره یونس تا سوره الكهف از حقہ مسیح مومه حقوق العباد کا خیال رکھنے والا نصف قرآن پر ایمان لانیوال سے اخلاق فاضلہ اسی کا نام ہے بغیر کسی عوض معاوضہ کے خیال سے نوع انسان سے نیکی کی جاوے۔اسی کا نام انسانیت ہے۔ادنی صفت انسان کی یہ ہے کہ بدی کا مقابلہ کرنے یا بدی سے در گزر کرنے کی بجائے بدی کرنے والے کے ساتھ نیکی کی جاوے۔یہ صفت انبیاء کی ہے اور پھر انبیاء کی صحبت میں رہنے والے لوگوں کی ہے۔اور اس کا اکمل نمونہ آنحضرت صلی ) علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔خداتعالی ہرگز ضائع نہیں کرتا۔ان دلوں کو کہ ان میں ہمدردی بنی نوع ہوتی ہے۔الله صفات حسنہ اور اخلاق فاضلہ کے دو ہی حصے ہیں اور وہی قرآن شریف کی پاک تعلیم کا خلاصہ اور لب لباب ہیں۔اول یہ کہ حق اللہ کے ادا کرنے میں