کتابِ تعلیم — Page 104
بھرا پڑا ہے۔پاک کرنے کے لائق ہو جاؤ گے۔تزکیہ نفس کے لئے چند کشیوں کی ضرورت نہیں ہے۔رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے چلہ کشیاں نہیں کی تھیں۔اترہ اور نفی اثبات وغیرہ کے نہیں کئے تھے بلکہ ان کے پاس ایک اور ہی چیز تھی۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں نحو تھے۔جو نور آپ میں تھا۔وہ اس اطاعت کی نالی میں سے ہو کر صحابہ مو کے قلب پر گرتا اور ماسوی اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا۔تاریخی کے بجائے ان سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔اس وقت بھی خوب یاد رکھو وہی حالت ہے جب تک کہ وہ نور جو خدا کی نالی میں سے آتا ہے۔تمہارے قلب پر نہیں گرتا۔تزکیہ نفس نہیں ہو سکتا۔انسان کا سینہ مہبط الانوار ہے اور اسی وجہ سے وہ بیت اللہ کہلاتا ہے۔بڑا کام یہی ہے کہ اس میں جو ثبت ہیں وہ توڑنے جائیں اور اللہ ہی اللہ رہ جائے۔ملفوظات جلد اول من ( نفس پر نگاہ رکھ کر استغفار کرتے رہنا چاہیئے حضرت اقدس سورة الاعراف کی آیت نمبر ہ کی تفسیر میں نفس میں نگاہ رکھ کر استغفار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔قالا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ ٥ (اعراف (۲۴) جہت لوگ ہیں۔کہ خدا پر شکوہ کرتے ہیں اور اپنے نفس کو نہیں دیکھتے