کتابِ تعلیم — Page 105
انسان کے اپنے نفس کے ہنی ظلم ہوتے ہیں۔ورنہ اللہ تعالے رحیم و کریم ہے بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے۔اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کرایا ہے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو یا باطن کا۔خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو۔اور ہا تھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے آج کل آدم علیہ السلام کی دُعا پڑھنی چاہیئے۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا۔یہ دُعا اول ہی قبول ہو چکی ہے۔ا تفسیر سورۃ مائده تا سوره توبه از حضرت مسیح موعود منشا ) نفس انسانی کی تین حالتیں کی تین قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کر نفس انسانی کی تین حالتیں ہیں۔ایک آماده دوسری توامه تیسری مطمئنه نفس امارہ کی حالت میں انسان شیطان کے پنجہ میں گویا گرفتار ہوتا ہے اور اس کی طرف بہت جھکتا ہے۔لیکن نفس لوامہ کی حالت میں وہ اپنی خطا کا ریوں پر نادم ہوتا اور شرمسار ہو کر خدا کی طرف جھلکتا ہے مگر اس حالت میں بھی ایک جنگ رہتی ہے۔کبھی شیطان کی طرف جھکتا ہے اور کبھی رحمان کی طرف۔مگر نفس مطمئنہ کی حالت میں وہ عباد الرحمن کے زمرہ میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ گویا ارتفاعی نقطہ ہے جس کے بالمقابل نیچے کی طرف امارہ ہے۔