کتابِ تعلیم — Page 99
٩٩ ہے جو خدا تعالیٰ کو پیارا معلوم ہوتا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس یر اکراہ عدالعالی وین کے جذبات کو اللہ جل شانہ کے راضی کرنے کی جبر کرنا غرض سے کم کر دنیا اور گھٹا دینا " د آئینہ کمالات اسلام تجواله روحانی خزائن جلده ۱۳۵ تا۱۳۴) روحانی کمال تک پہنچنے کے مدارج مومن کا نماز میں خشوع اختیار کرنا فوز مرام کے لئے پہلی حرکت ہے جس کے ساتھ تکبر در محجب وغیرہ چھوڑ نا پڑتا ہے۔اور اس میں فوز میرام یہ ہے کہ انسان کا نفس خشوع کی سیرت اختیار کر کے خدا تعالیٰ سے تعلق پکڑنے کے لئے مستعدا اور طیار ہو جاتا ہے۔دوسرا کام مومن کا یعنی وہ کام جس سے دوسرے مرتبہ تک قوت ایمانی پہنچتی ہے اور پہلے کی نسبت ایمان کچھ قومی ہو جاتا ہے عقل سلیم کے نزدیک یہ ہے کہ مومن اپنے دل کو جو خشوع کے مرتبہ تک پہنچ چکا ہے لغو خیالات اور لغو شغلوں سے پاک کرے کیونکہ جب تک مومن یہ ادنیٰ قوت حاصل نہ کر لے کہ خدا کے لئے نغو باتوں اور لغو کاموں کو ترک کر سکے جو کچھ بھی مشکل نہیں اور صرف گناہ بے لذت ہے۔اس وقت تک یہ طمع خام ہے کہ مومن ایسے کاموں سے دست بردار ہو سکے جن سے دست بردار ہوتا نفس پر بہت بھاری ہے اور جن کے ارتکاب میں نفس کو کوئی فائدہ یا لذت ہے۔پس اس سے ثابت ہے کہ پہلے درجہ کے بعد کہ ترک بہتر