کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 100 of 162

کتابِ تعلیم — Page 100

ہے۔دوسرا درجہ تحریک لغویات ہے۔اور اس درجہ پر وعدہ جو لفظ اللح سے کیا گیا ہے یعنی فوز مرام اس طرح پر پورا ہوتا ہے کہ مومن کا تعلق جیب مغو کاموں اور لغو شغلوی سے ٹوٹ جاتا ہے تو ایک خفیف سا تعلق خدا تعالیٰ سے اس کو ہو جاتا ہے۔اور قوت ایمانی بھی پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور خفیف تعلق اس لئے ہم نے کہا کہ لغویات سے تعلق بھی خفیف ہی ہوتا ہے۔نہیں خفیف تعلق چھوڑنے سے خفیف تعلق ہی ملتا ہے۔پھر تیسرا کام مومن کا ہے جیسے تیسر سے درجے تک قوت ایمانی پہنچے جاتی ہے۔عقل سلیم کے نزدیک یہ ہے کہ وہ صرف لغو کاموں اور لغو باتوں کو ہی خدا تعالیٰ کے لئے نہیں چھوڑتا بلکہ اپنا عزیز مال بھی خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ لغو کاموں کو چھوڑنے کی نسبت مال کا چھوڑنا نفس پر زیادہ بھاری ہے۔کیونکہ وہ محنت سے کمایا ہوا اور ایک کارآمد چیز ہوتی ہے جس پر خوش زندگی اور آرام کا مدار ہے۔اس لئے مال کا خدا کے لئے چھوڑنا بہ نسبت لغو کاموں کے چھوڑنے کے قوت ایمانی کو زیادہ چاہتا ہے اور لفظ افلح کا جو آیات میں وعدہ ہے اس کے اس جگہ یہ معنے ہوں گے کہ دوسرے درجہ کی نسبت اس مرتبہ میں قوت ایمانی اور تعلق بھی خدا تعالیٰ سے زیادہ ہو جاتی ہے۔اور نفس کی پاکیزگی اس سے پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ اپنے ہا تھ سے اپنا محنت سے کما یا ہوا مال محق خدا کے خوف سے نکالنا نجر نفس کی پاکیزگی کے ممکن نہیں۔پھر چوتھا کام مومن کا جس چوتھے درجے تک قوت ایمانی پہنچ جاتی ہے۔عقل سلیم کے نزدیک یہ ہے کہ وہ صرف مال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ترک نہیں کرتا بلکہ وہ چیز جس سے وہ مال سے بھی بڑھ کو پیار کرتا