کتابِ تعلیم — Page 98
۹۸ خدا تعالیٰ ظالموں اور معتدین کو جو طریق عدل اور انصاف چھوڑ دیتے ہیں دوست نہیں رکھتا۔پھر وہ لوگ مورد فضل کیوں کو ٹھہر سکتے ہیں اور کیونکران کا نام مصطفے اور برگزیدہ اور چھنا ہوا رکھا جاسکتا ہے۔سو ان یقینی اور قطعی دلائل سے نہیں ماشا پڑا کہ اس جگہ ظالم کا لفظ کسی مذموم معنی کے لئے استعمال نہیں ہوا۔بلکہ ایک ایسے محمود اور قابل تعریف معنوی کے لئے استعمال ہوا ہے جو درجہ سابق بالخیرات سے حصہ لینے کے مستحق اور اس درجہ فاصلہ کے چھوٹے بھائی ہیں اور وہ معنی بجز اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ ظالم سے مراد اس قسم کے لوگ رکھے جائیں کے جوخدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس مخالف پر جبر دا کراہ کرتے ہیں۔اور نفس کے جذبات کم کرنے کے لئے دن رات مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں۔کیوں کہ یہ تو لغت کی رو سے بھی ثابت ہے۔کہ ظالم کا لفظ بغیر کسی اور لحاظ کے فقط کم کرنے کے لئے بھی آیا ہے۔جیسا کہ اللہ جلبشانہ قرآن کریم میں ایکدوسرے مقام میں فرماتا ہے۔ولحد تظلم منه شيئًا اى ولم تنقص اور خدا تعالیٰ کی راہ میں نفس کے جذبات کو کم کرنا بلاشبہ ان معنوں کی رو ایک ظلم ہے ماسوا اس سے ہم ان کتب لغت کو جو صد ہا برس قرآن کریم کے بعد اپنے زمانہ کے محاورات کے موافق طیار ہوئی ہے قرآن مجید کا حکم نہیں ٹھہرا سکتے۔۔۔۔۔۔۔اس جگہ ظلم سے مراد وہ ظلم لے :- الكهف : ۳۳