کتابِ تعلیم — Page 85
۸۵ ہر ایک چیز کو جب اس کی حد مقرہ تک پہنچایا جاتا ہے۔تب اس سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔جیسے اس زمین میں چالیس یا پچاس ہاتھ کھودنے سے کنواں تیار ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص صرف چار پانچ ہا تھ کھود کر چھوڑ دے اور کہا ہے کہ یہاں پانی نہیں ہے تو یہ اس کی غلطی ہے اصل بات یہ ہے کہ اس شخص نے حق محنت ادا نہیں کیا " ملفوظات جلد چہارم ملت) لله عالی نکتہ نواز ہے بہتر کر بھی ہے انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہیے - ہمارا اس وقت اصل مدعا یہ ہے کہ ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیئے۔ایسا نہ ہو کہ یہ کفر سچا ہی ثابت ہو جاو ہے۔انسان اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک بھی مور دو قہر و عذاب الہی ہو تو پھر دشمن کی بات سچی ہی ہو جایا کرتی ہے۔خالی شیخیوں سے اور بے جا تکبر اور بڑائی سے پر ہیز کرنا چاہیے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہیئے۔دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ حقیقتاً سب سے بڑے اور مستحق بزرگی تھے۔ان کے انکسار اور تواضع کا ایک نمونہ قرآن شریف میں موجود ہے لیکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکہ قرآن شریف پڑھا کرتا تھا۔ایک دن آپ کے پاس عمائد مکہ اور رؤسائے شہر جمع تھے اور آپ ان سے گفتگو میں مشغول تھے۔باتوں میں مصروفیت کی وجہ