کتابِ تعلیم — Page 63
رکھتا۔اور یہ سہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔اسلام تو انسان کو چست ہشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے۔اس لئے میں تو کہتا ہوں۔کہ تم اپنے کاروبار کو جد و جہد سے کرو۔حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو۔اور وہ اس کا تردد نہ کرے۔تو اس سے مواخذہ ہوگا۔پس اگر کوئی اس سے یہ مراد ہے کہ دنیا کے کا رویا بہ سے الگ ہو جائے وہ غلطی کرتا ہے نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کا روبار جو تم کرتے ہو۔اس میں دیکھ لو۔کہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔اور اس کے ارادہ سے باہر نکل کہ اپنی اغراض و جذبات کو مقدم نہ کرو۔پس اگر انسان کی زندگی کا یہ مدعا ہو جائے کہ وہ صرف تنتقم کی زندگی بسر کہ سے اور اس کی ساری کامیابیوں کی انتہا خورد و نوش اور لباس و خواب ہی ہو۔اور خدا تعالیٰ کے لئے کوئی خانہ اس کے دل میں باقی نہ رہے۔تو یاد رکھو کہ ایسا شخص قطرہ اللہ کا مقلب ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ رفتہ رفتہ اپنے قویٰ کو بے کا رہ کر لے گا۔یہ صاف بات ہے کہ جس مطلب کے لئے کوئی چیز ہم لیتے ہیں اگر وہ وہی کام نہ دے ہے تو ا سے بے کار قرار دیتے ہیں۔مثلاً ایک لکڑی کرسی یا میز بنانے کے واسطے لیں اور اس کام کے ناقابل ثابت ہو۔تو ہم اسے ایندھن ہی بنا لیں گئے۔اسی طرح پر انسان کی پیدائش کی اصل بغرض تو عبادت الہی ہے۔لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو خارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کر کے بیکار کر لیتا ہے۔تو خدا تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے :- كل ما يبدا بمدى لولا دُعَاؤُكُمْة (الفرقان :)