کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 64 of 162

کتابِ تعلیم — Page 64

۶۴ میں نے ایک بار پہلے بھی بیان کیا تھا کہ میں نے ایک روٹیا میں دیکھا کہ :- " ایک جنگل میں کھڑا ہوں۔شرقاً غرباً اس میں ایک بڑی نالی چلی گئی ہے۔اس نالی پر بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک قصاب کے جو ہر ایک بھیڑ پر مسلط ہے۔ہاتھ میں چھری ہے۔جو انہوں نے ان کی گردن پر رکھی ہوئی ہے۔اور آسمان کی طرف منہ کیا ہوا ہے۔میں ان کے پاس ٹہل رہا ہوں۔میں نے یہ نظارہ دیکھ کر سمجھا کہ یہ آسمانی حکم کے منتظر ہیں تو میں نے یہی آیت پڑھی۔محل مَا يَقو اب سم رَبِّي لَوْلا دُعَاؤُكُم۔یہ سنتے ہی ان قصابوں نے چھریاں چلا دیں اور یہ کہا کہ تم ہو کیا ؟ آخر گوہ کھانے والی بھیڑ ی ہی ہو " غرض خدا تعالیٰ متقی کی زندگی کی پرواہ کرتا ہے اور اس کی بقاء کو عزیز رکھتا ہے اور جو اس کی مرضی کے برخلاف چلے وہ اس کی پر واہ نہیں کرتا اور اس کو جہنم میں ڈالتا ہے۔اس لئے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنے نفس کو شیطان کی غلامی سے باہر کہ ہے۔جیسے کلوروفارم نیند لاتا ہے۔اسی طرح پر شیطان انسان کو تباہ کرتا ہے اور اُسے غفلت کی نیند سلاتا ہے۔اور اسی میں اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔( ملفوظات جلد اول مثلا )