کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 139 of 162

کتابِ تعلیم — Page 139

۱۳۹ کرتا ہے وہ گویا اپنے خدا کو راضی کرتا ہے۔عرض اخلاق ہی ساری ترقیات کا زینہ ہے۔میری دانست میں یہی پہلو حقوق العباد کا ہے جو حقوق اللہ کے پہلو کو تقویت دیتا ہے۔جو شخص نوع انسان کے ساتھ اخلاق سے پیش آتا ہے خدا تعالٰی اس کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا جب انسان خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک کام کرتا ہے اور اپنے ضعیف بھائی کی ہمدردی کرتا ہے تو اس اخلاص سے اس کا ایمان قوی ہو جاتا ہے مگر یہ یادرکھنا چاہیے کہ نمائش اور نمود کے لئے جو اخلاق برتے جائیں وہ اخلاق خدا تعالیٰ کے لئے نہیں ہوتے اور ان میں اخلاص کے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔اس طرح پر تو بہت سے لوگ سرائیں وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ان کی اصل غرض شہرت ہوتی ہے۔اور اگر انسان خدا تعالیٰ کے لئے کوئی فعل کرے تو خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔اللہ تعالٰی اُسے ضائع نہیں کرتا اور اس کا بدلہ دیتا ہے۔میں نے تذکرۃ الاولیاء میں پڑھا ہے کہ ایک ولی اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ بارش ہوئی اور کئی روز تک رہی۔ان بارش کے دنوں میں میں نے دیکھا کہ ایک انٹی برس کا بوڑھا گھر ہے جو کو ٹھے پر چڑیوں کے لئے دانے ڈال رہا ہے۔میں نے اس خیال سے کہ کافر کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں اس سے کہا کہ کیا تیر سے اس عمل سے تجھے کچھ تواب ہو گا ؟ اس گہر نے جواب دیا کہ ہاں ضرور ہوگا۔پھر وہی ولی اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جو میں حج کو گیا تو دیکھا کہ وہی گھر طواف کر رہا ہے۔اس گہر نے مجھے پہچان لیا اور کہا دیکھو ان دانوں کا مجھے ثواب مل گیا یا نہیں ؟ یعنی وہی دانے میرے اسلام تک لانے کا موجب ہو گئے۔حدیث میں بھی ذکر آیا ہے کہ ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کرو