کتابِ تعلیم — Page 38
PA کن وسائل سے انسان اس کو پا سکتا ہے۔پس واضح ہو کہ سب سے بڑا وسیلہ جو اس مدعا کے پانے کے لئے شرط ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو صحیح طور پر پہچانا جائے اور بچے خدا پر ایمان لایا جائے کیونکہ اگر پہلا قدم ہی غلط ہے اور کوئی شخص مثلاً پرند یا چرند یا عناصر یا انسان کے بچہ کو خدا بنا بیٹھا ہے تو پھر دوسرے قدموں میں اُس کے راہ راست پر چلنے کی کیا امید ہے۔سچا خدا اس کے ڈھونڈنے والوں کو مدد دیتا ہے۔مگر مردہ مُردہ کو کیونکر مدد دے سکتا ہے۔اس میں اللہ جل شانہ نے خوب تمثیل فرمائی ہے اور وہ یہ ہے :- لَهُ دَعْوَة الْحَقِّ وَالَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُدْنِهِم لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُمْ بِشَيْ ءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَيْهِ إلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِخِهِ وَمَا دُعَاء الكفرين الا فِي ضَلَالٍ (الرعد : ۱۵) یعنی۔دُعا کر نے کے لائق وہی سچا خدا ہے جو ہر ایک بات پر قادر ہے۔اور جو لوگ اس کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں وہ کچھ بھی ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ان کی مثال ایسی ہے کہ جب کوئی پانی کی طرف ہاتھ پھیلا د سے کہ اسے پانی میر سے منہ میں آجا۔تو کیا وہ اس کے منہ میں آجائے گا ؟ ہر گز نہیں۔سو جو لوگ بچے خدا سے بے خبر ہیں اُن کی تمام دعائیں باطل ہیں۔دوسرا وسیلہ۔خدائے تعالیٰ کے اُس حسن و جمال پر اطلاع پاتا ہے جو باعتبار کمال نام کے اُس میں پایا جاتا ہے۔کیونکہ حسن ایک ایسی چیز ہے جو بالطبع دل کی طرف کھنچا جاتا ہے اور اس کے مشاہدہ سے طبعا محبت پیدا ہوتی ہے تو حسن باری تعالیٰ اس کی وحدانیت اور اس کی عظمت اور بزرگی اور صفات ہیں جیسا کہ